خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 619 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 619

خطبات مسرور جلد 17 619 چنانچہ آپ اس عورت کی قبر پر تشریف لے گئے اور اس کا جنازہ پڑھا۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2019 (صحيح البخارى كتاب الصلاة باب كنس المسجد والتقاظ الخرق۔۔۔حديث 458) (صحيح البخارى كتاب الصلاة باب الخدم للمسجد حديث 460) سنن ابن ماجہ کی شرح انجاز الحاجۃ کا مصنف لکھتا ہے کہ یہ ایک سیاہ فام خاتون تھی جس کا نام امام بیہقی نے ام منجن بیان کیا ہے اور ابن مندہ نے اس کا نام خرقاء بیان کیا ہے اور صحابیات میں سے اس کو شمار کیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ خرقاء اس خاتون کا نام ہو اور اتم منجن اس کی کنیت ہو۔یعنی دونوں نام صحیح ہیں۔انجاز الحاجة شرح سنن ابن ماجہ جلد 4 صفحہ 332 ، کتاب الجنائز، باب ماجاء في الصلاة على القبر حديث 1527 ، دار النور اسلام آباد 2011ء) اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت معوذ بن عمرو بن جموں۔حضرت مُعوّذ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو خشم سے تھا۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 470 ، الانصار ومن معهم من بنى جشم، دار الكتب العلمية بیروت 2001ء) حضرت معوی کے والد کا نام عمرو بن جموح اور ان کی والدہ کا نام ہند بنت عمرو تھا۔حضرت معوذ بن عمرو بن جموح اپنے دوبھائیوں حضرت معاذ اور حضرت علاڈ کے ساتھ غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے اس کے علاوہ یہ غزوہ احد میں بھی شامل ہوئے تھے۔(الطبقات الكبرى جلد ثالث صفحه 426-427 و اخوه عوز بن عَمْرو دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2012ء) حضرت معوذ بن عمرو کے والد وہی عمرو بن جموح ہیں جن کو ان کے بیٹوں نے ان کی لنگڑاہٹ کی وجہ سے پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے بدر میں شامل نہیں ہونے دیا تھا۔اس کا ذکر میں پہلے بھی ایک دفعہ خطبے میں کر چکا ہوں۔مختصر ابتادوں کہ جب احد کا موقع آیا تو حضرت عمرو بن جموح نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ بدر کے موقعے پر تم نے مجھے جنگ پر جانے نہیں دیا تھا لیکن اب میں ضرور جاؤں گا۔احد کی جنگ میں تم مجھے روک نہیں سکتے۔ان کے بیٹوں نے بہتیرا کہا کہ آپ کی ٹانگ خراب ہے۔آپ پہ تو جنگ ضروری بھی نہیں ہے۔ایسے حالات میں فرض نہیں ہے لیکن حضرت عمرو بن جموح نہیں مانے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ ! میرے بیٹے میرے پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے جنگ میں مجھے شامل ہونے سے روک رہے ہیں لیکن میں آپ کے ساتھ جہاد میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا کہ جہاں تک تمہارا تعلق ہے تمہیں اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ہے اور تم پر اس وجہ سے جہاد فرض نہیں ہے لیکن پھر آپ نے انہیں ان کا وہ جوش دیکھ کے، شوق دیکھ کے اجازت بھی دے دی۔حضرت عمرو بن جموح نے اپنا جنگ کا ساز و سامان لیا اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ اے اللہ ! مجھے شہادت عطا فرما اور مجھے ناکام و نامراد اپنے اہل و عیال کی طرف نہ لوٹانا اور پھر حقیقتا ان کی یہ خواہش پوری ہوئی اور وہ میدان احد میں شہید ہوئے۔