خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 618
خطبات مسرور جلد 17 618 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2019 اللہ کی قسم ! میں نہیں سمجھتا کہ آپ کسی تکلیف یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے کھڑے ہوئے تھے اور میر اخیال ہے کہ وہ کسی یہودی مرد یا عورت کا جنازہ تھا اور ہم نے آپ سے آپ کے کھڑے ہونے کی وجہ بھی دریافت نہ کی۔( المصنف لابن ابی شیبہ مترجم جلد 3 صفحه 732 كتاب الجنائز باب مَن قَالَ يُقَامُ لِلْجِنَازَةِ إِذَا مَزَّت حدیث 12030 ،مکتبہ رحمانیہ لاہور) پھر حضرت یزید بن ثابت سے ایک اور روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔یہ سنن نسائی کی ہے۔حضرت یزید بن ثابت کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔آپ نے ایک نئی قبر دیکھی ( یہ ایک اور واقعہ ہے۔ایک دوسرا واقعہ بیان ہو رہا ہے) کہتے ہیں ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ فلاں قبیلے کی لونڈی کی قبر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا۔صحابہ نے عرض کی کہ وہ دو پہر کے وقت فوت ہوئی تھی اور آپ اُس وقت قیلولہ فرمارہے تھے۔ہم نے آپ کو اس وجہ سے اٹھانا پسند نہیں کیا کہ آپ آرام کر رہے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی اور آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں یعنی اس قبر کے اوپر ہی آپ نے صفیں بنوا کے جنازہ پڑھا۔پھر فرمایا کہ جب تک میں تمہارے درمیان ہوں جو بھی تم میں سے فوت ہو اس کی خبر مجھے ضرور دو کیونکہ میری دعا اس کے لیے رحمت ہے۔(سنن النسائى كتاب الجنائز بَابُ الصَّلَاةُ عَلَى الْقَبْرِ حديث 2022) اسی طرح یہ روایت مسلم اور سنن ابو داؤد اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ابن ماجہ میں اس طرح تفصیلاً بیان ہوا ہے کہ حضرت یزید بن ثابت نے بیان کیا اور وہ زید سے بڑے تھے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔جب آپ جنت البقیع میں پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر تھی۔آپ نے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔انہوں نے عرض کیا کہ یہ فلاں عورت ہے۔راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا تم نے مجھے اس کے متعلق کیوں خبر نہ دی۔انہوں نے عرض کیا کہ آپ دو پہر کو آرام فرما رہے تھے۔آپ روزے سے بھی تھے۔ہم نے پسند نہ کیا کہ آپ کو تکلیف دیں۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا فعل نہ کرو جو میں نہیں جانتا۔یعنی میں نے تو کبھی نہیں ایسا کہا۔تم میں سے جو کوئی بھی فوت ہو جب تک میں تمہارے درمیان ہوں مجھے اس کے بارے میں ضرور اطلاع کیا کرو کیونکہ اس پر میری دعا اس کے لیے باعث رحمت ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بنائی اور آپ نے اس پر چار تکبیریں پڑھیں۔(سنن ابن ماجه كتاب الجنائز بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ حديث 1528) صحیح بخاری کی ایک روایت ہے جو حضرت ابوہریرہ سے ہے کہ ایک سیاہ فام خاتون کے متعلق روایت مروی ہے۔یہ قبر پہ جنازہ پڑھنے کے بارے میں ہے جس میں یہ بیان ہے کہ وہ مسجد نبوی میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔خاتون مسجد نبوی میں جھاڑو دیا کرتی تھی وہ فوت ہو گئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے چند روز نہ دیکھا تو آپ نے اس خاتون کے متعلق پوچھا۔لوگوں نے بتایا کہ وہ فوت ہو گئی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا تم نے مجھے اس کی اطلاع نہیں دینی تھی۔اس عورت کی قبر کا پتا بتاؤ۔