خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 617
خطبات مسرور جلد 17 617 48 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2019ء بمطابق 29 / نبوت 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، (سرے) یو کے تشهد و تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت یزید بن ثابت ایک بدری صحابی تھے ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو مالک بن شجار سے تھا۔حضرت یزید کے والد کا نام ثابت بن ضحاک اور والدہ کا نام نوار بنت مالک تھا۔حضرت یزید حضرت زید بن ثابت کے بڑے بھائی تھے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة المجلد الثانى صفحه 137 زید بن ثابت دارالکتب العلميه بيروت لبنان 2008ء)(اسد الغابة في معرفة الصحابة المجلد الرابع صفحه 677 يزيد بن ثابت‘دارالکتب العلميه بيروت لبنان 2008ء) اور حضرت یزید بن ثابت نے ڈبیہ بنت ثابت سے شادی کی تھی۔الطبقات الكبرى، جزء 3 صفحه 254 ، ثابت بن خالد دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) اور یہ بھی ان کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت یزید بن ثابت غزوہ بدر اور احد دونوں میں شامل ہوئے تھے۔حضرت یزید بن ثابت کی شہادت 12 ہجری میں حضرت ابو بکر کے دورِ خلافت میں جنگ یمامہ کے روز ہوئی جبکہ ایک دوسرے قول کے مطابق جنگ یمامہ کے روز انہیں ایک تیر لگا تھا اور واپسی پر راستے میں ان کی وفات ہوئی تھی۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب المجلد4 صفحه 132 یزید بن ثابت دارالکتب العلميه بيروت لبنان 2002ء) (كتاب الثقات لابن حبان جلد 1 صفحه 468 ، دارالکتب العلمية بيروت 1998ء) حضرت یزید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ ظاہر ہوا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ بھی کھڑے ہو گئے۔وہ سب کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ جنازہ گزر گیا۔(سنن النسائى كتاب الجنائز بَاب الأَمْرِ بِالْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ حديث (1920) یہی واقعہ ایک اور روایت میں تفصیل کے ساتھ اس طرح بیان ہوا ہے۔حضرت یزید بن ثابت سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ ظاہر ہوا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ جلدی سے کھڑے ہوئے اور آپ کے صحابہ بھی تیزی سے کھڑے ہو گئے۔وہ تب تک کھڑے رہے جب تک جنازہ گزر نہ گیا۔حضرت یزید کہتے ہیں کہ