خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 616
خطبات مسرور جلد 17 616 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 نہیں ہوئے وہ زمانہ بڑا لمبا تھا جس میں شرک بھی پھیل گیا۔پھر آپ نے کہا کہ یہ بڑا سخت زمانہ تھا۔لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور اس سے افضل کسی کو نہیں مانتے تھے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرقان کے ساتھ مبعوث ہوئے جس نے حق و باطل میں فرق کر دیا اور والد اور بیٹے کے درمیان فرق کر دیا حتی کہ ایک آدمی اپنے والد، بیٹے یا بھائی کو کافر سمجھتا تھا جبکہ اللہ نے اس کے دل کا تالا ایمان کے لیے کھول دیا تھا۔پھر کہتے ہیں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ کفر کی حالت میں مر گیا تو دوزخ میں جائے گا۔اس کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوتی تھیں جب اسے معلوم ہو تا تھا کہ اس کا محبوب جہنم میں رہے گا۔یہی وجہ ہے کہ جب اسلام جو انہوں نے قبول کر لیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا تو وہ اپنے رشتہ داروں کے بارے میں فکر مند رہتے تھے اور پتا تھا کہ قبول نہیں کریں گے۔اگر مخالفت کریں گے تو جہنم میں جائیں گے اور اس کے لیے پھر کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ - (الفرقان: 75) کہ اور وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحه 890 حديث المقداد بن الاسود حديث نمبر 24311 ، عالم الكتب بيروت لبنان 1998ء) تو پس یہ دعا ہے جو ہمیشہ کرنی چاہیے تاکہ نسلوں میں بھی دین قائم رہے۔اور اللہ کا جو فضل ہوا ہے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔حضرت انس کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی جو اونچی آواز میں تلاوت کر رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ خشیت الہی رکھنے والا انسان ہے۔وہ حضرت مقداد بن عمر و تھے۔الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 4 صفحه 44 دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2002ء) اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اسلام کی حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہونے کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے اندر خشیت بھی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 13 / دسمبر 2019ء جلد 26 شمارہ 79 صفحہ 09:05)