خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 615
خطبات مسرور جلد 17 615 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 پاخانہ بھی اونٹ کی مینگنیوں کی طرح ہو تا تھا اور اس دوران میں قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے ایک چوہا دیکھا جس نے بل میں سے ایک دینار نکالا۔پھر اندر گیا اور ایک اور دینار نکالا حتی کہ اس نے سترہ دینار نکالے۔اس کے بعد ایک سرخ رنگ کا کپڑا نکالا۔حضرت مقداد کہتے ہیں کہ میں نے اس کپڑے کو کھینچا تو اس میں ایک دینار پایا اس طرح اٹھارہ دینار ہو گئے۔پھر میں ان کو لے کر نکلا اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو ساری بات بتائی اور عرض کیا یار سول اللہ ! اس کا صدقہ لے لیجیے۔آپ نے فرمایا اس کا کوئی صدقہ نہیں ہے۔انہیں لے جاؤ۔اللہ تعالیٰ ان میں تمہارے لیے برکت ڈال دے۔پھر آپ نے فرمایا شاید تم نے اس سوراخ میں ہاتھ ڈالا ہو گا۔میں نے عرض کیا کہ نہیں اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ذریعہ عزت بخشی ہے ! کہ میں نے ہاتھ نہیں ڈالا تھا بلکہ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے میرے لیے انتظام کر دیا۔(سنن ابن ماجه كتاب اللقطة باب الْتِقَاطُ مَا أَخْرَجَ الْجُرَةُ حديث 2508) مجبیر بن نفیر روایت کرتے ہیں کہ ایک دن ہم حضرت مقداد کے ساتھ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی گزرا اور اس نے کہا کیا ہی مبارک آنکھیں ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا ہے۔اللہ کی قسم ! ہماری دلی خواہش ہے کہ ہم بھی دیکھتے جو آپ نے دیکھا ہے۔صحابہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ جو آپ لوگوں نے دیکھا ہے اور ہم بھی اس کا مشاہدہ کرتے جس کا آپ نے مشاہدہ کیا ہے۔یہ سن کر حضرت مقداد غصہ میں آگئے۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے بڑے تعجب سے پوچھا کہ اس شخص نے تو محض خیر کی بات کی ہے۔حضرت مقداد نے اس شخص کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا کہ اس شخص کو کون سی چیز اس زمانے میں حاضر ہونے کی تمنا پر مجبور کر رہی ہے جس سے اللہ نے اسے غائب رکھا۔پھر کہنے لگے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اگر یہ اس وقت ہوتا تو کس مقام پر ہو تا۔پھر انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو ایسے لوگوں نے بھی پایا جنہیں اللہ نے اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیا کیونکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانا اور نہ ہی آپ کی تصدیق کی۔اب یہ جو کہہ رہا ہے کہ کیا پتا اس وقت اس کی قسمت میں کیا تھا۔اگر تصدیق نہ کرتا تو پھر دوزخ میں جاتا۔پھر آگے کہنے لگے کہ تم اللہ کی حمد کیوں نہیں کرتے کہ اس نے تمہیں ایسے وقت میں پیدا کیا جس میں تم صرف اپنے رب کو پہچاننے والے ہو۔کسی قسم کا شرک نہیں کرتے۔اپنے رب کو پہچانتے ہو۔رسول پر ایمان لاتے ہو اور اپنے نبی کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق کرنے والے ہو اور اللہ نے دوسروں کے ذریعہ تمہیں آزمائشوں سے بچالیا۔پہلے لوگ تھے یا اس زمانے کے دوسرے لوگ تھے آزمائشوں میں سے گزرے۔تمہیں اللہ نے ان آزمائشوں سے بچالیا ہے۔تم اس پر خدا کا شکر ادا کرو۔پھر کہنے لگے کہ خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جاہلیت کے زمانے میں بھیجا اور فترة وحی کے زمانے میں جو کسی بھی نبی کی بعثت کے زمانے سے سب سے زیادہ سخت زمانہ تھا یعنی وہ زمانہ جب ایک لمبا عرصہ کے بعد نزول ہوا۔ایک نبی کے بعد دوسرے نبی کے درمیان جو وقفہ ہے اس میں وحی نہیں ہوتی یا اس سے ایک لمبا عرصہ تھا جو ایک نبی اور دوسرے نبی کے درمیان کا ہوتا ہے اور اس میں انبیاء کی وحی نہیں ہوتی۔اس لفظ کو فترة کہتے ہیں۔تو کہتے ہیں جو لمبا عرصہ تھا جس میں وحی نہیں ہوئی یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث