خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 614
خطبات مسرور جلد 17 614 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 گیا کہ یارسول اللہ ! وہ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا ( ابن ماجہ کی روایت ہے)۔مختلف وقتوں میں مختلف ہے۔بہر حال یہ روایت یہی ہے۔کہتے ہیں آپ نے فرمایا کہ علی ان میں سے ہیں، یہ آپ نے تین بار فرمایا اور پھر ابوذر، پھر سلمان اور مقد اد نہیں۔(سنن ابن ماجه مقدمه المؤلف باب فضل سلمان وأبي ذر والمقداد حدیث 149) حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کو سات سات نجیب رفقاء دیے گئے ہیں۔راوی کہتے ہیں کہ یا آپ نے رفقاء کے بجائے نگر ان کا لفظ استعمال فرمایا تھا لیکن مجھے چودہ عطا کیے گئے ہیں ہم نے عرض کیا کہ وہ کون ہیں تو حضرت علی کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ ایک تو میں ہوں یعنی حضرت علی میرے دو بیٹے حسن ور حسین جعفر، حمزہ، ابو بکر، عمر، مصعب بن عمیر ، بلال، سلمان، عمار، مقد ،آد، حذیفہ ، ابو ذر اور عبد اللہ بن مسعود سنن ترمذی کی روایت ہے۔اور (سنن الترمذى كتاب المناقب باب ان الحسن والحسين سيدا شباب اهل الجنة حديث 3785) قرآن کریم کی سورہ انعام کی آیت ہے کہ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدُوةِ وَ الْعَشِي يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ فَتَظرُ دَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّلِمِينَ (الأنعام: 53) اور تو ان لوگوں کو نہ دھتکار جو اپنے رب کو اس کی رضا چاہتے ہوئے صبح بھی پکارتے ہیں اور شام کو بھی۔تیرے ذمہ ان کا کچھ بھی حساب نہیں اور نہ ہی تیر اکچھ حساب ان کے ذمہ ہے۔پس اگر پھر بھی تو انہیں دھتکار دے گا تو تو ظالموں میں سے ہو جائے گا۔حضرت سعد اس آیت کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔یہ بھی ابن ماجہ کی روایت ہے کہ یہ آیت چھ اشخاص کے بارے میں نازل ہوئی کہ میں خود یعنی حضرت سعد، ابن مسعودؓ، صہیب، عمار، مقداد اور بلال۔حضرت سعد نے کہا کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ ان لوگوں کے تابع ہوں۔پس تو انہیں اپنے پاس سے دھتکار دے۔راوی کہتے ہیں کہ اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں وہ بات داخل ہوئی جو اللہ نے چاہا کہ داخل ہو تو اللہ عزوجل نے آپ پر یہ آیت نازل فرمائی وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدُوةِ وَ الْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ (الانعام: 53) اور تو ان لوگوں کو نہ دھتکار جو اپنے رب کو اس کی رضا چاہتے ہوئے صبح بھی پکارتے ہیں اور شام کو بھی۔(سنن ابن ماجه کتاب الزهد باب مجالسة الفقراء حديث 4128) بہر حال اس آیت کی وجہ جو بھی تھی لیکن یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا۔ایک روایت کے مطابق حضرت مقداد پہلے صحابی تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں گھوڑے پر لڑائی میں حصہ لیا۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 6 صفحه 160 المقداد بن الاسود دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2005ء) یہ بھی تھوڑا سا پہلے بیان ہو چکا ہے۔حضرت مقداد سے روایت ہے کہ وہ ایک روز قضائے حاجت کے لیے بقیع کی طرف گئے جو قبرستان ہے۔لوگ اس وقت دو تین روز بعد قضائے حاجت کے لیے جایا کرتے تھے اور وہ قضائے حاجت کے لیے ایک ویرانے میں داخل ہوئے اور اس دوران میں کیونکہ کھانا بہت کم ہو تا تھا اور کہتے ہیں کہ