خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 613
خطبات مسرور جلد 17 613 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 جائے۔حضرت مقداد کا جسم بھاری بھر کم تھا لیکن اس کے باوجود جہاد کے لیے نکلتے تھے۔ایک دفعہ کسی سنار کے صندوق کے پاس بیٹھے تھے تو حضرت مقداد صندوق سے بھی بڑے نظر آرہے تھے۔کسی نے ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جہاد سے معذور فرمایا ہے۔کافی جسیم ہیں اور جیسا کہ ان کی بیٹی نے بتایا ہے کہ پیٹ بڑا تھا۔حضرت مقداد نے جواب دیا کہ مجھ پر سورہ بحوث۔( بحوث سورہ توبہ کا بھی دوسرا نام ہے کیونکہ اس سورت میں منافقین اور ان کے رازوں کو کھولا گیا ہے۔) کہتے ہیں مجھے اس سورت نے لازم قرار دیا ہے کہ انْفِرُوْا خِفَافًا وَثِقَالًا (التوبه: 41) کہ جہاد کے لیے نکلو خواہ ہلکے ہو یا بھاری ہو۔احكام القرآن لابن عربی جلد 2 صفحه 444 دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2003ء) الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 87 داراحياء التراث العربى بيروت لبنان 1996ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خفافاً وثقالا کی وضاحت یوں بیان فرمائی ہے کہ اس آیت میں مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ خدا کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں اور کسی قسم کی مشکل ان کے رستے میں نہیں آنی چاہیے۔خِفَافًا وَثِقَالًا کے کئی معنی ہیں تم بوڑھے ہو یا جوان ہو فرد، افراد یا گروہوں میں سے ہو۔پیدل ہو یا سوار ہو۔تمہارے پاس ہتھیار کافی ہیں یا نہیں ہیں۔خوراک کافی ہے یا نہیں ہے۔(ماخوذ از دروس حضرت مصلح موعود غیر مطبوعہ ، رجسٹر نمبر 36 صفحہ 1006) حضرت مقداد نے اس آیت سے کیونکہ کئی معنی ہیں اس کے جسم کا ہلکا ہونا اور بھاری ہو نا مراد لے کر اپنے شوق جہاد کا بھی اظہار کیا۔حضرت مقداد کا پیٹ بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ان کا ایک رومی غلام تھا وہ ان سے کہنے لگا کہ میں آپ کے پیٹ کو کاٹ کر چربی نکال دوں گا ( اس زمانے میں جو بھی آپریشن کا طریقہ تھا) اس سے وہ ہلکا ہو جائے گا۔آج کل بھی لوگ کرتے ہیں۔چنانچہ اس نے حضرت مقدار کا پیٹ چاک کیا اور چربی نکال کر دوبارہ سی دیا۔لیکن اس وجہ سے حضرت مقداد کی وفات ہو گئی۔کوئی انفیکشن وغیرہ ہو گیا۔ٹھیک نہیں ہو سکے۔بہر حال وہ غلام یہ دیکھ کے پھر وہاں سے بھاگ گیا۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 6 صفحه 161 دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2005ء) لیکن ایک اور روایت بھی ہے اس کے مطابق حضرت مقداد کی وفات دُهْنُ الْخِرُوعَ یعنی کیسٹر آئل پینے کی وجہ سے ہوئی تھی۔یہ ابو فائد نے روایت کیا ہے۔حضرت مقداد کی بیٹی کریمہ کہتی ہیں کہ حضرت مقد اڈ کی وفات مدینے سے تین میل کے فاصلے پر مجرف مقام پر ہوئی۔وہاں سے ان کی نعش کو لوگوں کے کندھوں پر اٹھا کر مدینے لایا گیا۔حضرت عثمان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں انہیں دفن کیا گیا۔تینتیس ہجری میں حضرت مقداد کی وفات ہوئی تھی۔وفات کے وقت ان کی عمر ستر سال یا اس کے قریب تھی۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 87 داراحياء التراث العربي بيروت لبنان 1996ء) ابنِ بُریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے مجھے چار سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے۔سوال کیا