خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 46

خطبات مسرور جلد 17 46 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2019 چکا ہے۔بڑی نرمی سے آپ نے اسے اسلام کی تبلیغ فرمائی۔اس نے بھی بظاہر بڑے شوق سے تبلیغ سنی مگر مسلمان نہیں ہوا۔پھر جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے ساتھ آپ چند اصحاب مجد کی طرف روانہ کریں جو وہاں جا کر اہل نجد میں اسلام کی تبلیغ کریں اور پھر ساتھ یہ بھی کہنے لگا کہ مجھے امید ہے کہ نجدی لوگ آپ کی دعوت کو رڈ نہیں کریں گے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تو اہل مجد پر اعتماد نہیں ہے۔آبو براء کہنے لگا کہ آپ ہر گز فکر نہ کریں۔جو لوگ میرے ساتھ جائیں گے میں ان کی حفاظت کا ضامن ہوں۔چونکہ ابوبراء ایک قبیلے کا رئیس اور صاحب اثر آدمی تھا آپ نے اس کے اطمینان دلانے پر یقین کر لیا اور صحابہ کی ایک جماعت مسجد کی طرف روانہ فرما دی۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ یہ تاریخ کی روایت ہے لیکن بخاری کی روایت میں آتا ہے کہ قبائل رغل اور ذکوان وغیرہ جو مشہور قبیلہ بنو سُکیم کی شاخ تھے ان کے چند لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کا اظہار کر کے درخواست کی کہ ہماری قوم میں سے جو لوگ اسلام کے دشمن ہیں ان کے خلاف ہماری امداد کریں۔یہ تشریح نہیں تھی کہ کس قسم کی امداد ہے آیا فوجی ہے یا تبلیغ کرنا چاہتے ہیں۔بہر حال انہوں نے درخواست کی کہ چند آدمی اس کے لئے روانہ کئے جائیں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دستہ روانہ فرمایا جس کا ذکر ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ بد قسمتی سے بئر معونہ کی تفصیلات میں بخاری کی روایات میں بھی کچھ خلط واقع ہو گیا۔دو واقعات کی کچھ روایتیں آپس میں اکٹھی مل گئی ہیں۔اس لئے تاریخ سے اور بخاری کی روایات سے صحیح طرح پتہ نہیں لگتا کہ حقیقت کیا ہے ؟ جس کی وجہ سے حقیقت پوری طرح متعین نہیں ہو سکتی ؟ لیکن بہر حال انہوں نے اس کا حل بھی نکالا ہے فرماتے ہیں کہ بہر حال اس قدر یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر قبائل دغل اور ذکوان وغیرہ کے لوگ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تھے اور انہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ چند صحابہ ان کے ساتھ بھجوائے جائیں۔آپ نے یہ لکھا ہے کہ اگر ایک دو روایتیں مختلف ہیں اور اگر ان کی آپس میں مطابقت کرنی ہے کہ ایک دوسرے سے ان کا کیا تعلق ہے یا کس طرح اس کی تطبیق کی جاسکتی ہے تو فرماتے ہیں کہ ان دونوں روایتوں کی مطابقت کی یہ صورت اس طرح ہو سکتی ہے کہ رعل اور ذکوان کے لوگوں کے ساتھ ابوبراء عَامِری رئیس قبیلہ عامر بھی آیا ہو۔اس نے ان کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کی ہو۔چنانچہ تاریخی روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ مجھے اہل مسجد کی طرف سے اطمینان نہیں ہے اور پھر اس کا یہ جواب دینا کہ آپ کوئی فکر نہ کریں۔میں اس کا ضامن ہو تا ہوں کہ آپ کے صحابہ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ابوبراء کے ساتھ رعل اور ذکوان کے لوگ بھی آئے تھے جن کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فکر مند تھے۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صفر 4 ہجری میں مُنذر بن عَمْرُو انْصارِی کی امارت میں صحابہ کی ایک پارٹی روانہ فرمائی۔یہ لوگ عموماً انصار میں سے تھے ، تعداد میں ستر تھے۔قریباً سارے کے سارے قاری اور قرآن خواں تھے۔جب یہ لوگ اس مقام پر پہنچے جو ایک کنوئیں کی وجہ سے بئر معونہ کے نام سے مشہور تھا