خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 612 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 612

خطبات مسرور جلد 17 612 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 سے محفوظ رکھے۔مقداد نے عرض کیا کوئی شک نہیں۔اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے !میں دو آدمیوں پر بھی نگران بننا پسند نہ کروں گا۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 6 صفحه 2017-208 معبد بن مقداد، دار الکتب العلمیه بیروت لبنان 2005ء) مجھے یہ ایک تجربہ ہوا اور اس میں میں نے دیکھا کہ مجھے یوں لگا کہ سب میرے غلام ہیں تو میں اس کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مجھے تو یہ پسند ہی نہیں کہ کبھی کسی دو آدمیوں کا بھی نگران بنوں۔یہ تقوی کا معیار تھا ان لوگوں کا کہ افسر بننے سے تکبر پیدا ہو سکتا ہے۔اس لیے میں پسند نہیں کرتا کہ دو آدمی بھی میرے ماتحت ہوں۔پس ہمارے سب افسروں کو بھی ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اول تو خواہش نہیں کرنی اور جب افسر بنایا جائے، عہدہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ سے اس عہدے کے شرسے بچنے کی دعا بھی مانگنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کبھی تکبر پیدانہ کرے اور اس کا فضل مانگنا چاہیے۔حضرت مقداد حمص کے محاصرے میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے ساتھ تھے۔(تاريخ الطبری جلد 4 صفحه 185 ثم دخلت سنة خمس عشرة ذكر فتح حمص، دارالفكر للطباعه والنشر والتوزيع بيروت لبنان 2002ء) حضرت مقد اڈ نے مصر کی فتح میں بھی حصہ لیا۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 4 صفحه 43 دارالکتب العلميه بيروت لبنان 2002ء) 20 ہجری میں جب مصر پر فوج کشی ہوئی اور حضرت عمرو بن عاص امیر عسکر نے دربارِ خلافت سے مزید کمک طلب کی تو حضرت عمرؓ نے دس ہزار سپاہی اور چار افسر جن میں سے ایک حضرت مقداد بھی تھے ان کی مدد کے لیے روانہ فرمائے اور لکھا کہ ان افسروں میں سے ہر ایک دشمن کے ایک ہزار سپاہیوں کے برابر ہے۔چنانچہ در حقیقت اس کمک کے پہنچتے ہی جنگ کی حالت بدل گئی اور نہایت قلیل عرصے میں تمام سر زمین جو فرعون کی زمین تھی تو حید کا ورثہ بن گئی۔(سیر الصحابہ جلد دوم صفحہ 286 حضرت مقداد بن عمر و، دارالاشاعت کراچی 2004ء) بجبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت مقداد بن اسوڈ ہمارے پاس کسی کام سے تشریف لائے تو ہم نے کہا۔اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی سے رکھے۔آپ تشریف رکھیں یہاں تک کہ ہم آپ کا کام کر دیں۔انہوں نے کہا کہ قوم کی حالت پر تعجب آتا ہے۔ابھی جب آئے تو کہا میں ان لوگوں کے پاس سے گزرا، کچھ لوگوں کے پاس گزرا تو وہ فتنے کی تمنا کر رہے تھے۔وہ گمان کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ضرور ویسے ہی آزمائے گا جیسے اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے صحابہ کو آزمایا تھا۔وہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خوش بخت وہ ہے جو فتنوں سے بچایا گیا۔یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائی اور آپ نے فرمایا کہ اگر ابتلا آ جائے تو پھر صبر ہے۔(المعجم الكبير للطبرانی جلد 20 صفحه 252-253 جبير بن نفير عن المقداد بن الاسود، دار احیاء التراث العربی بیروت) کہ فتنوں کی یعنی کسی آزمائش کی اور سختی کی دعا نہیں کرنی چاہیے ، نہ خواہش کرنی چاہیے لیکن اگر ابتلا آجائے، امتحان آ جائے تو پھر اس پہ صبر دکھانا چاہیے اور پھر ثابت قدمی دکھانی چاہیے نہ یہ کہ پھر بزدلی دکھائی