خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 611
خطبات مسرور جلد 17 611 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکے پر چڑھائی کرنے کی تیاری فرمائی تو اس مہم کو بہت پوشیدہ رکھا گیا اور باوجود اس کے کہ صحابہ اس مہم کی تیاری کر رہے تھے لیکن یہ عام نہیں تھا کہ مکے کی طرف جانا ہے۔اس موقعے پر ایک بدری صحابی حضرت حاطب بن بلعہ نے اپنی سادگی اور نادانی میں مکہ سے آئی ہوئی ایک عورت کے ہاتھ ایک خفیہ خط مکہ روانہ کر دیا جس میں مکہ پر حملہ کرنے کی ساری تیاریوں کا ذکر کر دیا۔وہ عورت خط لے کر چلی گئی تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دے دی۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو دو تین افراد کے ساتھ جن میں حضرت مقداد بھی شامل تھے اس عورت کا پیچھا کرنے اور وہ خط لینے کے لیے روانہ فرمایا۔چنانچہ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، زبیر اور مقداد کو بھیجا اور فرمایا کہ رفضة خارش جاؤ۔وہاں ایک شتر سوار عورت ہے۔اس کے پاس ایک خط ہے۔اس سے وہ لے لو۔چنانچہ ہم چل پڑے۔ہمارے گھوڑے ہمیں لے کر سرپٹ دوڑے۔ہم اس عورت کے پاس پہنچے تو ہم نے کہا کہ خط نکالو۔اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ہم نے کہا کہ تم ضرور خط نکالو گی یا تمہیں اپنے کپڑے اتارنے پڑیں گے۔اس نے وہ اپنے بالوں کے جوڑے سے نکالا تو ہم اس خط کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جو ان صحابی نے کافروں کے نام لکھا تھا۔لکھا تو اپنی معصومیت کی وجہ سے تھا لیکن بہر حال یہ معاملہ کیونکہ کچھ خفیہ تھا تو اس پہ یہ سب کچھ راز فاش ہو جانا تھا۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے خبر دی اور یہ خط واپس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ گیا۔(صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابه رضي الله عنهم باب من فضائل اهل بدر رضی الله عنهم وقصة حاطب بن ابی بلتعہ حدیث 2494 ) موسیٰ بن یعقوب اپنی پھوپھی سے اور وہ اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد کو خیبر کی پیداوار میں سے پندرہ وسق جو سالانہ عطا فرمایا تھا جو اند از اسوا چھپن من جو سالانہ بنتا ہے وہ ہم نے معاویہ بن ابو سفیان کے ہاتھ ایک لاکھ درہم میں فروخت کیا تھا۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 86 داراحياء التراث العربی بیروت لبنان 1996ء) یہ سالانہ مستقل آمد تھی اور ہو سکتا ہے کہ چند سالوں کی پیداوار یا مستقل پیداوار فروخت کی ہو کیونکہ صرف چھپن من کی تو اتنی زیادہ قیمت نہیں ہو سکتی۔جنگ یرموک میں بھی حضرت مقد اڈ نے شرکت کی تھی اور اس جنگ میں قاری حضرت مقداد تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے بعد یہ سنت جاری فرمائی تھی کہ جنگ کے وقت سورہ انفال کی تلاوت کی جاتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی لوگ اس بات پر عمل کرتے رہے۔(تاريخ الطبری جلد 4 صفحه 59 ثم دخلت سنة ثلاث عشرة خبر اليرموك، دارالفکر بيروت لبنان2002ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سر یہ بھیجا تھا اس پر حضرت مقداد کو امیر بنایا تھا۔جب وہ واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے ابو معبد اتُو نے امارت کے منصب کو کیساپایا تو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ؟! میں جب نکلا تو میری یہ حالت ہوئی کہ میں دوسرے لوگوں کو اپنا غلام تصور کر رہا تھا۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اے ابو معبد ! امارت اسی طرح ہے سوائے اس کے کہ جسے اللہ تعالیٰ اس کے شر