خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 610 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 610

خطبات مسرور جلد 17 610 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 میں اللہ کی خاطر مسلمان ہو گیا۔یا رسول اللہ ! کیا اب میں اسے مار ڈالوں جب کہ اس نے ایسی بات کہی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے قتل نہ کرو۔حضرت مقداد نے کہا یارسول اللہ ! اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالا ہے اور پھر اس کے بعد ایسا کہا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرو کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو وہ تمہارے اس درجے پر ہو جائے گا جو تم کو اس کے قتل کرنے سے پہلے حاصل تھا یعنی ایمان کا درجہ اور تم اس کے درجے پر ہو جاؤ گے جو اس کو اس کے کلمہ کے کہنے سے پہلے حاصل تھا یعنی کا فر ہونے کی حالت میں جس کو اس نے کہا تھا۔(صحيح البخارى كتاب المغازی باب 12 حديث 4019) تو یہ قیاسی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی کہ اس طرح ہو کہ اس نے میرا ہاتھ بھی کاٹ دیا ہو پھر درخت کے پیچھے چھپ کے وہ کلمہ پڑھ لے اور اللہ کی خاطر کہے میں مسلمان ہو گیا ہوں تو کیا میں بدلہ لوں ؟ آپ نے کہا نہیں۔اگر لو گے تو وہ کا فرمومن ہو گا اور تم ایمان کے باوجود اس کا فر کی جگہ کھڑے ہو گے۔یہ ہے کلمہ پڑھنے والے کا مقام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اور آج کل کے علماء کہلانے والے اور اسلامی حکومتیں ان کے یہ عمل دیکھیں۔کاش یہ خود دیکھیں کہ اس حدیث کے مطابق وہ کس مقام پر کھڑے ہیں۔مومن کے مقام پر یا کافر کے مقام پر ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ قبیلہ بنو غفار کے ایک چرواہے کی نگرانی میں مدینے سے باہر چر رہے تھے اور اس چرواہے کی بیوی بھی ساتھ تھی۔بنو فَزَارَہ کے عیینہ بن حِضن نے بنو غَطفان کے کچھ گھڑ سواروں کے ساتھ مل کر حملہ کیا اور چرواہے کو مار ڈالا اور اس کی بیوی اور اونٹوں کو ساتھ لے گئے۔حضرت سلمہ بن اکوع کو سب سے پہلے ان لوگوں کا علم ہوا۔ان کے ساتھ حضرت طلحہ بن عبید اللہ کا غلام گھوڑا لے کر نکلا۔جب حضرت سلمہ ثنية الوداع، اس وادی کے نام کے بارے میں مختلف رائے ہیں۔بعض کے نزدیک یہ مدینے سے باہر وہ مقام تھا جہاں مکہ کی طرف جانے والے لوگوں کو وداع کیا جاتا تھا جبکہ دوسرے قول کے مطابق یہ ملک شام کی جانب مدینہ سے باہر ایک مقام ہے اور غزوہ تبوک سے واپسی پر اہل مدینہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہاں استقبال کیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ سے بعض سرایا کو وداع فرمایا تھا۔بہر حال یہ جب وہاں پہنچے تو انہوں نے عیینہ اور اس کے ساتھی کو دیکھ لیا اور مدینہ کے قریب سلغ پہاڑی پر چڑھ کر مدد کے لیے پکارا جانے والا کلمہ بلند آواز سے کہا، لوگوں کو آواز دی اور کہا کہ يَا صَبَاحَان! پھر حضرت سلمہ تیر برساتے ہوئے ان کے پیچھے دوڑ پڑے اور ان کے رخ موڑ دیے۔حضرت سلمہ کی مدد کی پکار سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں اعلان کروایا کہ دشمن کے مقابلے کے لیے نکلو تو فورا گھڑ سوار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آنے شروع ہو گئے اور ان میں سب سے پہلے جو لبیک کہتے ہوئے آئے وہ حضرت مقداد تھے۔(شرح الزرقانی جلد 2 صفحه 166 تا 169 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) (السيرة النبوية لابن هشام جزء 3-4 صفحه 174،175 غزوہ ذی قرد ، دار الكتاب العربی بیروت لبنان 2008ء) (الطبقات الكبرى جلد 2 صفحه 63 باب غزوة رسول الله مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)