خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 609 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 609

خطبات مسرور جلد 17 609 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 کرے گی۔آپ صلی علیہم نے یہ تقریر سنی تو بہت خوش ہوئے اور فرمایا۔سِيرُوا وَابْشِرُوا فَإِنَّ اللهَ قَدْ وَعَدَنِي إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَاللَّهِ لَكَانِّي انْظُرُ إِلَى مَصَارِعِ الْقَوْمِ یعنی تو پھر اللہ کا نام لے کر آگے بڑھو اور خوش ہو کیونکہ اللہ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ کفار کے ان دو گروہوں یعنی لشکر یا قافلہ جو ہے ان میں سے کسی ایک گروہ پر وہ ہم کو ضرور غلبہ دے گا اور خدا کی قسم! میں گویا اس وقت وہ جگہیں دیکھ رہا ہوں جہاں دشمن کے آدمی قتل ہو ہو کر گریں گے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبيين مصفحہ 354-355) پھر حضرت مقداد کے بارے میں ایک یہ بھی آتا ہے کہ غزوہ بدر میں اللہ کی راہ میں قتال کرنے والے پہلے گھڑ سوار ہونے کا شرف آپ کو حاصل ہوا۔ان کے گھوڑے کا نام سبحہ تھا۔ایک روایت کے مطابق غزوہ بدر میں مسلمانوں کے دو گھوڑوں کا ذکر ملتا ہے۔حضرت علی کہتے ہیں کہ بدر کے دن ہمارے پاس دو گھوڑے تھے ایک حضرت زبیر بن عوام کا تھا اور دوسر ا حضرت مقداد بن اسودؓ کا۔ابن ہشام کے مطابق غزوہ بدر کے دن مسلمانوں کے پاس تین گھوڑے تھے۔حضرت مرید بن ابو مرتد کے پاس گھوڑا تھا جس کا نام سبل تھا۔حضرت مقداد بن عمرو کے پاس گھوڑا تھا جس کا نام بغزجہ تھا یا سبحہ تھا اور حضرت زبیر بن عوام کے پاس گھوڑا تھا جس کا نام يَعْسُوب تھا۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 86 دار احياء التراث بيروت لبنان 1996ء)(دلائل النبوة و للبيهقى جلد 3 صفحه 39 دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2002ء) (السيرة النبويه لا بن هشام صفحه 452 اسماء خيل المسلمين يوم بدر، دارالکتب العلميه بيروت لبنان 2001ء) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مختلف تاریخوں سے سیرت خاتم النبیین میں جو لکھا ہے اس کے مطابق غزوہ بدر میں مسلمانوں کے پاس صرف دو گھوڑے تھے۔بعض کتابوں میں جیسا کہ میں نے کہا ہے تین کا ذکر ملتا ہے۔بعض میں پانچ کا ذکر بھی ملتا ہے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 353) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية جلد 2 صفحه 260 باب غزوة بدر الكبرى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء)(السيرة الحلبية جلد 2 صفحه 205 باب ذکر مغازيه علي الله مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) بہر حال یہ گھوڑے دو تھے یا تین تھے یا پانچ تھے لیکن یہ ثابت ہے کہ مسلمانوں کے جنگی سامان اور کافروں کے جنگی سامان میں کوئی نسبت ہی نہیں تھی اور کافروں کے سازوسامان کے مقابلے میں مسلمان نہتے ہی کہلا سکتے ہیں لیکن اس کے باوجو د دشمن کے مقابلے کے لیے جب کھڑے ہوئے تو جیسا کہ مہاجرین نے بھی اور انصار نے بھی آپ سے جو عہد کیا تھا اس کو پورا کر کے دکھایا۔حضرت مقداد بن عمر و کندی قبیلہ بنوزہرہ کے حلیف تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں شریک تھے۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! بتائیں اگر کفار میں سے کسی شخص سے میرا مقابلہ ہو جائے اور ہم دونوں لڑ پڑیں اور وہ میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ ڈالے اور پھر مجھ سے ایک درخت کی پناہ لے کر یہ کہے۔پھر دوڑ جائے اور ایک درخت کے پیچھے چھپ جائے اور یہ کہے کہ