خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 608 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 608

خطبات مسرور جلد 17 608 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 کو روکنے کے لیے بدر کی طرف روانہ ہوئے تو روحاء کے قریب پہنچ کر آپ نے بسیس اور عدی نامی دو صحابیوں کو دشمن کی حرکات و سکنات کا علم حاصل کرنے کے لیے بدر کی طرف روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ وہ بہت جلد خبر لے کر واپس آئیں۔روحاء سے آگے روانہ ہو کر جب مسلمان وادگی صفرا کے ایک پہلو سے گزرتے ہوئے رفتران میں پہنچے، یہ بھی ایک جگہ کا نام ہے جو بدر سے صرف ایک منزل ورے ہے تو اطلاع موصول ہوئی کہ قافلے کی حفاظت کے لیے قریش کا ایک بڑا جرار لشکر مکہ سے آرہا ہے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تمام صحابہ کو جمع کر کے انہیں اس خبر سے اطلاع دی اور پھر ان سے مشورہ پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! ظاہری اسباب کا خیال کرتے ہوئے تو یہی بہتر ہے کہ قافلہ سے سامنا ہو۔ہم دیکھیں کہ جو تجارتی قافلہ جارہا ہے ان کی نیت کیا ہے یا وہ کیا چاہتے ہیں ؟ کیونکہ وہ لشکر اگر جنگ کے لیے آ رہا ہے تو اس کے مقابلے کے لیے ہم ابھی پوری طرح تیار نہیں ہیں۔مگر آپ نے اس رائے کو پسند نہیں فرمایا۔مدینہ سے چلتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر صحابہ کو جو آپ کے ساتھ چلے تھے علم نہیں تھا کہ ہم جنگ کے لیے جارہے ہیں کیونکہ جنگ کی بھی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔بلکہ ان کو یہ تھا کہ ایک قافلہ ہے اس کو دیکھتے ہیں کہ ان کی نیت کیا ہے ؟ اور پھر اگر انہوں نے کوئی حملہ کیا تو چھوٹا قافلہ ہو گا اس سے لڑلیں گے لیکن لشکر کا اور باقاعدہ جنگ کا تو مدینہ سے نکلتے ہوئے صحابہ کو خیال بھی نہیں تھا لیکن بہر حال جب آپ نے پوچھا تو بعض نے کہا کہ لشکر کا مقابلہ تو ہم کر نہیں سکتے اس لیے ہمیں نہیں کرنا چاہیے۔آپ نے اس رائے کو پسند نہیں فرمایا۔دوسری طرف اکابر صحابہ نے یہ مشورہ سنا تو اٹھ اٹھ کر جاں نثارانہ تقریریں کیں اور عرض کیا کہ ہمارے جان و مال سب خدا کے ہیں۔ہم ہر میدان میں ہر خدمت کے لیے حاضر ہیں۔چنانچہ مقداد بن اسود نے جن کا دوسرا نام مقداد بن عمرو بھی تھا جو اصل نام ہے۔کہا یارسول اللہ ! ہم موسیٰ کے اصحاب کی طرح نہیں ہیں کہ آپ کو یہ جواب دیں کہ جاتو اور تیر اخدا جا کر لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ جہاں بھی چاہتے ہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ہم آپ کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے ہو کر لڑیں گے۔آپ نے یہ تقریر سنی تو آپ کا چہرہ مبارک خوشی سے تمتمانے لگا مگر اس موقع پر بھی آپ انصار کے جواب کے منتظر تھے اور چاہتے تھے کہ وہ بھی کچھ بولیں کیونکہ آپ کو یہ خیال تھا کہ شاید انصاریہ سمجھتے ہوں کہ بیعت عقبہ کے ماتحت ہمارا فرض صرف اس قدر ہے کہ اگر عین مدینہ پر کوئی حملہ ہو تو اس کا دفاع کریں۔چنانچہ باوجود اس قسم کی جاں نثارانہ تقریروں کے جو مہاجر صحابہ نے کیں آپ یہی فرماتے گئے کہ اچھا پھر مجھے مشورہ دو کہ کیا کیا جاوے۔سعد بن معاذ جو اوس قبیلے کے رئیس تھے انہوں نے آپ کے منشا کو سمجھا اور انصار کی طرف سے عرض کیا کہ یار سول اللہ ! شاید آپ ہماری رائے پوچھتے ہیں۔خدا کی قسم !جب ہم آپ کو سچا سمجھ کر آپ پر ایمان لے آئے ہیں تو ہم نے اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دے دیا ہے تو پھر اب آپ جہاں چاہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اگر آپ ہمیں سمندر میں کود جانے کو کہیں تو ہم کو د جائیں گے اور ہم میں سے ایک فرد بھی پیچھے نہیں رہے گا اور آپ ان شاء اللہ ہم کو لڑائی میں صابر پائیں گے اور ہم سے وہ بات دیکھیں گے جو آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا