خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 607 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 607

خطبات مسرور جلد 17 607 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپؐ نے فرمایا کیا تم لوگوں نے آج رات اپنے حصے کا دودھ پی لیا تھا ؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا یار سول اللہ یہ نہ پوچھیں آپ۔آپ یہ دودھ پئیں۔آپ نے پیا پھر مجھے دے دیا۔میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اور پئیں۔آپ نے پھر پیا۔پھر مجھے دے دیا۔جب مجھے محسوس ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیر ہو گئے ہیں، آپ کا پیٹ بھر گیا ہے۔جتنی آپ کی خوراک تھی اتنا دودھ آپ نے پی لیا ہے اور یہ بھی مجھے خیال آیا کہ میں نے اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا بھی لے لی ہے۔یہی دعا کی تھی ناں کہ اللہ جو مجھے پلائے اس کو پلا اور جو مجھے کھلائے اس کو کھلا۔کہتے ہیں اب دودھ بھی پلا دیا تھا اور میں نے دعا بھی لے لی تو میں ہنس پڑا اور میں اتنا ہنسا کہ بے اختیار زمین پر جا رہا۔یعنی یہاں تک کہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گیا۔کہتے ہیں کہ جب آپ نے مجھے ہنستے دیکھا تو اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اسے مقداد ! تیری کوئی شرارت ہے۔آپ نے فرمایا مجھے لگتا ہے تم نے کوئی شرارت کی ہے۔میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میرے ساتھ یوں ہوا ہے، اور میں نے یہ کیا تھا سارا قصہ سنا دیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہے۔یہ بات تو نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی تا کہ ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو جگالیتے وہ بھی اس سے پیتے۔رحمت سے حصہ پاتے۔کہتے ہیں میں نے کہا اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے جب آپ نے وہ رحمت پالی اور آپ کے ساتھ میں نے بھی وہ رحمت پالی تو اب مجھے کوئی پروا نہیں کہ لوگوں میں سے کون اسے حاصل کرتا ہے۔مجھے تو اپنی فکر تھی کیونکہ میں نے ہی وہ جرم کیا تھا۔(صحیح مسلم کتاب الاشربه باب اكرام الضيف وفضل ايثاره حدیث 2055 ) حضرت مقداد نے غزوات بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی تھی۔حضرت مقد اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیر اندازوں میں سے بیان کیے جاتے ہیں۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 86 داراحياء التراث بيروت لبنان 1996ء) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر میں نے مقداد بن اسوڈ کی بات کا ایک ایسا منظر دیکھا کہ اگر مجھ کو حاصل ہو جاتا تو مجھے وہ ان تمام نیکیوں سے عزیز تر ہوتا جو ثواب میں اس ایک منظر کے برابر ہو۔کہتے ہیں ہوا یوں کہ مقداد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ مشرکوں کے خلاف دعا کر رہے تھے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح موسیٰ کی قوم نے کہا تھا کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلا - وَلَكِنَّا نُقَاتِلُ عَنْ يَمِيْنِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ وَبَيِّنْ يَدَيْكَ وَخَلْفَكَ، یعنی جاتُو اور تیر ارب دونوں جا کر لڑو۔نہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بھی لڑیں گے بائیں بھی اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کا چہرہ چمکنے لگا اور مقداد کی اس بات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کر دیا۔(صحيح البخارى كتاب المغازی باب قول الله تعالى اذ تستغيثون ربكم۔۔۔۔حديث 3952) سیرت خاتم النبیین میں جنگ بدر کے حوالے سے اس کی کچھ تفصیل اس طرح بیان ہوئی ہے کہ دشمن کی خبر پا کر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ارادے جاننے کے لیے اور اگر وہ حملہ کرتے ہیں تو ان کے حملے