خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 606 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 606

خطبات مسرور جلد 17 606 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 دوہ لیا کرو۔وہ کہتے ہیں کہ ہم دودھ دوہتے اور ہم میں سے ہر شخص اپنا حصہ پی لیتا اور ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کا حصہ رکھ دیتے۔وہ کہتے ہیں کہ رات آپ تشریف لاتے اور اتنی آواز میں السلام علیکم کہتے کہ سونے والا بیدار نہ ہو اور جو جاگ رہا ہو وہ سن لے۔کہتے ہیں کہ پھر آپ مسجد تشریف لے جاتے اور نماز پڑھتے۔پھر اپنے حصے کا دودھ لیتے اور نوش فرماتے۔کہتے ہیں کہ ایک رات میرے پاس شیطان آیا جبکہ میں اپنا حصہ پی چکا تھا یعنی شیطانی خیال میرے دل میں آیا۔اس نے کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے پاس جاتے ہیں اور انصار آپ کو تحفہ پیش کرتے ہیں۔آپ کو اس گھونٹ کی یعنی تھوڑے سے دودھ کی جو آپ کے حصے کا ر کھا ہوا تھا کوئی ضرورت نہیں ہے۔چنانچہ کہتے ہیں میں نے وہ حصہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رکھا ہو اتھا وہ لے کر پی لیا۔جب وہ میرے پیٹ میں چلا گیا، عربوں کا بیان کرنے کا اپنا ایک طریقہ ہے۔کہتے ہیں میرے پیٹ میں چلا گیا، میں جان گیا کہ اب اس کے حصول کی کوئی راہ نہیں۔بس یہ اب واپس نہیں آسکتا تو کہتے ہیں کہ شیطان نے مجھے نادم کیا اور کہا کہ تیرا بر اہو یہ تو نے کیا کیا ! تو نے محمد کے حصے کا دودھ پی لیا ہے۔وہ تشریف لائیں گے اور اسے نہ پائیں گے تو وہ تیرے خلاف دعا کریں گے اور تو ہلاک ہو جائے گا اور تیری دنیا و آخرت تباہ ہو جائے گی۔شیطان نے ندامت کیوں کی ؟ حضرت مقداد نے یہ فقرہ کیوں بولا؟ اس لیے کہ شیطان نے یہ وسوسہ آپ کے دل میں ڈالا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لیے بددعا کریں گے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمتہ للعالمین ہیں۔اس چھوٹی سی بات پر انہوں نے کیوں دعا کرنی تھی۔تو یہ خیال بھی شیطانی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے بد دعا کریں گے۔بہر حال کہتے ہیں یہ خیال میرے دل میں آیا کہ دعا کریں گے تو میں ہلاک ہو جاؤں گا اور دنیاو آخرت تباہ ہو جائے گی۔کہتے ہیں کہ میرے اوپر ایک چادر تھی جب میں اسے اپنے پاؤں پر ڈالتا تو میر اسر باہر رہ جاتا اور جب سر پر ڈالتا تو میرے پاؤں باہر نکل جاتے اور مجھے نیند نہ آتی تھی۔میرے دونوں ساتھی تو سو گئے تھے۔انہوں نے وہ نہیں کیا تھا جو میں نے کیا تھا یعنی وہ دودھ پی لیا تھا۔کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔آپ نے السلام علیکم کہا جیسے کہا کرتے تھے۔پھر مسجد گئے اور نماز پڑھی یعنی نفل پڑھے۔پھر اپنے مشروب کی طرف آئے۔دودھ کا جو گلاس رکھا ہوا تھا اس کی طرف آئے۔اس کا ڈھکنا اٹھایا تو اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھایا۔کہتے ہیں میں جاگ رہا تھا۔سب کچھ دیکھ رہا تھا۔مجھے خیال آیا کہ اب آپ میرے خلاف دعا کریں گے۔یعنی مجھے بددعا دیں گے اور میں ہلاک ہو جاؤں گا۔لیکن آپ نے فرمایا لَه اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي، وَاسْقِ مَنْ سَقَانِی۔یعنی اے اللہ !جو مجھے کھلائے اس کو تو کھلا اور جو مجھے پلائے تو اس کو پلا۔کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے اپنی چادر لی۔اپنے اوپر مضبوطی سے اسے باندھا۔جاگ تو میں رہا تھا اور چھری لے کر باہر گیا کہ یہ جو باہر بکریاں کھڑی ہیں ان میں سے جو سب سے اچھی، موٹی، صحت مند بکری ہے اس کی طرف چل پڑا کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ذبح کروں۔کہتے ہیں جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے ہیں بلکہ ان سب کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے یعنی ساری بکریوں کے۔پھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کا ایک برتن لایا۔ان کو خیال بھی نہ ہو تا تھا کہ اس میں دودھ دوہ کر اس کو بھریں گے۔کہتے ہیں کہ میں نے اس میں دودھ دوہا یہاں تک کہ اس کے اوپر تک جھاگ آگئی، بر تن پورا بھر گیا۔