خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 605 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 605

خطبات مسرور جلد 17 605 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 اس کی تفصیل بھی میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔تھوڑی سی مختصر جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں لکھی ہے وہ کچھ بیان کر دیتا ہوں۔وہ اس طرح ہے کہ " غزوہ وڈ ان سے واپس آنے پر ماہ ربیع الاول کے شروع میں آپ نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار عبيدة بن الحارث مطلبی کی امارت میں ساٹھ شتر سوار مہاجرین کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔اس مہم کی غرض بھی قریش مکہ کے حملوں کی پیش بندی تھی۔" ان کو روکنا تھا " چنانچہ جب عُبيدة بن الحارث اور ان کے ساتھی کچھ مسافت طے کر کے ثَنِيَّةُ الْمَرَّة کے پاس پہنچے تونا گاہ کیا دیکھتے ہیں کہ قریش کے دو سو مسلح نوجوان عکرمہ بن ابو جہل کی کمان میں ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں۔فریقین ایک دوسرے کے سامنے ہوئے اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں کچھ تیر اندازی بھی ہوئی لیکن پھر مشرکین کا گروہ یہ خوف کھا کر کہ مسلمانوں کے پیچھے کچھ کمک مخفی ہو گی۔کچھ کمک چھپی ہوئی ہو گی ان کے مقابلہ سے پیچھے ہٹ گیا اور مسلمانوں نے اُن کا پیچھا نہیں کیا۔البتہ مشرکین کے لشکر میں سے دو شخص مقداد بن عمر اور عتبہ بن غزوان، عکرمہ بن ابو جہل کی کمان سے خود بخود بھاگ کر مسلمانوں کے ساتھ آملے اور لکھا ہے کہ وہ اسی غرض سے قریش کے ساتھ نکلے تھے کہ موقعہ پاکر مسلمانوں میں آملیں۔کیونکہ وہ دل سے مسلمان تھے مگر بوجہ اپنی کمزوری کے قریش سے ڈرتے ہوئے ہجرت نہیں کر سکتے تھے اور ممکن ہے کہ اسی واقعہ نے قریش کو بد دل کر دیا ہو اور انہوں نے اسے بد فال سمجھ کر پیچھے ہٹ جانے کا فیصلہ کر لیا ہو۔تاریخ میں یہ مذکور نہیں ہے کہ قریش کا یہ لشکر جو یقینا کوئی تجارتی قافلہ نہیں تھا اور جس کے متعلق ابن اسحاق نے جَمْعُ عَظِيمٌ (یعنی ایک بڑا لشکر) کے الفاظ استعمال کیے ہیں کسی خاص ارادہ سے اس طرف آیا تھا، لیکن یہ یقینی ہے کہ اُن کی نیت بخیر نہیں تھی اور یہ خدا کا فضل تھا کہ مسلمانوں کو چوکس پا کر اور اپنے آدمیوں میں سے بعض کو مسلمانوں کی طرف جاتا دیکھ کر ان کو ہمت نہیں ہوئی اور وہ واپس لوٹ گئے۔اور صحابہ کو اس مہم کا یہ عملی فائدہ ہو گیا کہ دو مسلمان رُوحیں قریش کے ظلم سے نجات پاگئیں۔" (سیرت خاتم النبیین صفحہ 328-329) مدینہ ہجرت کے وقت حضرت مقداد بن اسود حضرت کلثوم بن ہرم کے گھر ٹھہرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد اور حضرت بخبار بن صخر کے مابین مواخات قائم کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد کو بنو عدیلہ، انصار کے قبیلہ خزرج کی ایک شاخ ہے ان کے محلے میں رہائش کے لیے جگہ عطا فرمائی تھی۔حضرت اُبی بن کعب نے انہیں اس محلے میں رہنے کی دعوت دی تھی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 86 داراحياء التراث بيروت لبنان 1996ء) حدیثوں میں رات کو بکری کا دودھ پینے کا جو ایک واقعہ بیان ہوتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تین شخص جو دودھ رکھتے تھے اس کا تعلق حضرت مقداد سے ہی ہے۔وہ دودھ بھی ایک صحابی پی گئے۔حضرت مقداد یہ روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دو ساتھی مدینہ ہجرت کر کے آئے اور ہمارے کان اور آنکھیں مشقت کی وجہ سے متاثر ہو گئی تھیں۔ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر پیش کرنے لگے کہ کسی کے ساتھ ٹھہر جائیں مگر کسی نے ہمیں قبول نہ کیا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔آپ ہمیں اپنے گھر لے گئے تو وہاں تین بکریاں تھیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا دودھ ہم سب کے لیے