خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 604
خطبات مسرور جلد 17 604 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چا حضرت زبیر بن عبد المطلب کی بیٹی ضباعۃ سے ان کی شادی کروادی۔(شرح الزرقانی جلد 5 صفحه 213 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء)(معجم البلدان جلد 2 صفحه 311 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) (السيرة النبوية لابن هشام صفحه 151 باب ذكر هجرة الاولى الى ارض الحبشة مطبوعه دار ابن حزم 2009ء) (الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 85 مقداد بن عمرو دار احياء التراث العربى بيروت لبنان 1996ء) (الاصابة في تمييز الصحابة جلد 6 صفحه 160 المقداد بن الاسود دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2005ء) حضرت ضُبائہ حضرت زبیر اور عاتکہ بنت ابی وھب کی بیٹی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی حضرت مقداد سے جب کروائی تو ان کے ہاں اولاد ہوئی۔ان کے دو بچے پید اہوئے کریمہ اور عبد اللہ۔عبد اللہ جنگ جمل میں حضرت عائشہ کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعۃ کو خیبر میں سے چالیس وسق کھجوریں عطا کی تھیں۔الطبقات الكبرى لابن سعد جزء 8 في النساء ذكر بنات عمومة رسول الله صفحه 38 دارالكتب العلميه بیروت لبنان 1990ء) اور یہ تقریباً ڈیڑھ سو من یا کہہ لیں کہ چھ ہزار کلو کے قریب بنتا ہے۔(لغات الحديث جلدچهارم صفحه 487 ’وسق‘۔لغات الحدیث جلد دوم صفحه 648 ’صاع) حضرت مقداد کے ایک بیٹے کا نام معبد بھی تھا۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 6 صفحه 207 معبد بن مقداد، دار الکتب العلميه بيروت لبنان 2005ء) حضرت مقداد کی بیٹی کریمہ آپ کا حلیہ بیان کرتی ہیں کہ ان کا قد لمبا اور رنگ گند می تھا۔پیٹ بڑا اور سر میں کثرت سے بال تھے۔وہ اپنی داڑھی کو زرد رنگ لگایا کرتے تھے جو خوب صورت تھی۔نہ بڑی تھی اور نہ چھوٹی تھی۔آنکھیں سیاہ تھیں اور ابر و باریک اور لمبے تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 87 داراحياء التراث العربي بيروت لبنان 1996ء) حضرت مقداد کے قبول اسلام کا واقعہ اس طرح ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مقد او ان سات صحابہ میں سے تھے جنہوں نے مکے میں اپنے اسلام کا سب سے پہلے اظہار کیا تھا۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه جلد 5 صفحه 243 دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2008ء) اس کی تفصیل پہلے میں حضرت عمار بن یاسر کے ضمن میں بیان کر چکا ہوں۔حضرت مقداد کی مدینہ کی طرف ہجرت کے بارے میں آتا ہے کہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں میں حضرت مقداد بھی شامل تھے۔کچھ عرصے بعد مکہ واپس آگئے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو اس وقت حضرت مقداد ہجرت نہ کر سکے۔پھر وہ گلے میں اس وقت تک رہے جب تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبیدہ بن حارث کی سر کردگی میں ایک سریہ بھیجا۔حضرت مقداد اور حضرت عتبہ بن غزوان عکرمہ بن ابو جہل کی کمان میں اس غرض سے لشکر میں شامل ہوئے تھے کہ وہ دونوں موقع پا کر مسلمانوں سے جاملیں گے۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه جلد 5 صفحه 242 دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2008ء)