خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 603
خطبات مسرور جلد 17 603 47 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 22/ نومبر 2019ء بمطابق 22 / نبوت 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن (سرے) یو کے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بدری صحابہ کے ذکر میں آج میں حضرت مقداد بن اسود یا مقداد بن عمرو کا ذکر کروں گا۔ان کا اصل نام مقداد بن عمرو ہے حضرت مقداد کے والد کا نام عمر و بن ثعلبہ تھا جو بنی بھراء سے تھے۔البتہ حضرت مقداد کو اسود بن عبد یغوث کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ اس نے انہیں بچپن میں اپنا متبنیٰ بنا لیا تھا۔اس لیے مقداد بن اسوڈ کے نام سے معروف ہو گئے۔(سنن الترمذى كتاب الزهد باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْمِدْحَةِ وَالْمَدَّا حِيْنَ حديث 2393) (السيرة النبوية لابن هشام صفحه 151 باب ذكر هجرة الاولى الى ارض الحبشة مطبوعه دار ابن حزم2009ء) حضرت مقداد کے والد عمر و بن ثعلبہ قبیلہ بھراء سے تعلق رکھتے تھے جو یمن کے علاقے میں قضائہ کا ایک قبیلہ تھا۔زمانہ جاہلیت میں ان کے والد عمرو کے ہاتھوں کسی کا قتل ہو گیا جس وجہ سے وہ بھاگ کر حضر موت، جو سمندر کے کنارے عدن کے شرقی جانب یمن میں ایک علاقہ ہے وہاں چلے گئے اور وہاں کندہ قبیلے کے حلیف بن گئے جس بنا پر کندی کہلائے جانے لگے۔وہاں ایک خاتون سے عمرو نے شادی کر لی جس سے حضرت مقداد پیدا ہوئے۔جب مقد اڈ بڑے ہوئے تو ان کا ابو شمر بن حجر کندی سے جھگڑا ہو گیا۔انہوں نے شمر کی ٹانگ تلوار سے کاٹ دی اور پھر مکہ بھاگ آئے اور اسود بن عبد يغوث کے حلیف بن گئے۔مقداڈ نے اپنے والد کو خط لکھاتو وہ بھی پھر مکہ آگئے۔اسود نے مقداد کو اپنا متینی بنالیا تھا جس وجہ سے ان کو مقداد بن اسود بھی کہا جانے لگا اور عموماً اس نام سے مشہور ہو گئے لیکن جب آیت اُدْعُوهُمْ لِبَابِهِمْ (الاحزاب:6) یعنی ان کو ، بچوں کو ، لے پالکوں کو بھی ان کے باپوں کے نام سے پکارو تو انہیں مقداد بن عمرو کہا جانے لگا لیکن شہرت مقداد بن اسود کے نام سے تھی۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے کہ اُدْعُوهُمْ لِأبَابِهِمْ کہ لے پالکوں کو بھی اور جو کسی کے ساتھ منسوب ہیں، اصل نسب جو ہے وہ باپ کا ہے اس لیے باپ سے پکارا جانا چاہیے۔حضرت مقداد کی کنیت ابو معبد کے علاوہ ابو اسود، ابو عمر اور ابو سعید بھی بیان کی جاتی ہے۔ایک دفعہ حضرت مقداد اور حضرت عبد الرحمن بن عوف بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت عبد الرحمن نے پوچھا کہ تم شادی کیوں نہیں کرتے ؟ حضرت مقداد نے کہا کہ آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں تو پھر اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کر دیں۔اس پر حضرت عبد الرحمن شخصے میں آگئے اور انہیں ڈانٹ دیا۔حضرت مقد اڈ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری شادی کرواتا ہوں۔اس کے بعد