خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 45

خطبات مسرور جلد 17 45 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2019 کو یثرب کے حالات کی اطلاع دی اور ان سب نے با قاعدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور یہی بیعت جو تھی یثرب میں اسلام کے قیام کا بنیادی پتھر تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جن الفاظ میں بیعت لی وہ یہ تھے کہ ہم خدا کو ایک جانیں گے۔شرک نہیں کریں گے۔چوری نہیں کریں گے۔زنا کے مرتکب نہیں ہوں گے۔قتل سے باز رہیں گے۔کسی پر بہتان نہیں باندھیں گے اور ہر نیک کام میں آپ کی اطاعت کریں گے۔بیعت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ دیکھو اگر تم صدق و ثبات کے ساتھ ، سچائی کے ساتھ ، مضبوطی کے ساتھ اس عہد پر قائم رہے تو تمہیں جنت نصیب ہو گی اور اگر کمزوری دکھائی تو پھر تمہارا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔وہ جس طرح چاہے گا پھر تمہارے سے سلوک کرے گا۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 222 تا224) بہر حال پھر ان لوگوں نے اپنے عہد بیعت کو ثابت کر کے دکھایا۔نہ صرف ثابت کر کے دکھایا بلکہ اعلیٰ ترین معیار تک پہنچایا اور پھر ہم بعد کے حالات دیکھتے ہیں کہ کس طرح پھر مدینہ میں اسلام پھیلا۔حضرت مُنْذِرِ بن عَمْرو بن خُنَيْس ایک صحابی ہیں جن کا ذکر ہو گا۔ان کا لقب تھا مُعْنِقُ لِيَمُوْتَ یا مُعْنِقُ لِلْمَوْتِ یعنی آگے بڑھ کر موت کو گلے لگانے والا۔ان کا نام منذر اور والد کا نام عمر د تھا۔انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو ساعدہ سے تھے۔بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُنْذِرِ بن عَمْرو کو اور حضرت سعد بن عبادة کو ان کے قبیلہ بنو ساعدہ کا نقیب مقرر فرمایا تھا یعنی سردار مقرر کیا تھا یا نگران مقرر کیا تھا۔زمانہ جاہلیت میں بھی حضرت مُنذر پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ہجرت مدینہ کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُنْذِر اور حضرت طليب بن عمیر کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔آپ غزوہ بدر میں یعنی حضرت مُنْذِر غزوہ بدر میں اور احد میں بھی شریک ہوئے۔(اسد الغابه جلد 5 صفحه 258 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) حضرت مُنْذِر بن عمرو کے بارے میں سیرت خاتم النبیین ہمیں مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ : " قبیلہ خزرج کے خاندان بنو ساعدہ سے تھے اور ایک صوفی مزاج آدمی تھے۔بئر معونہ میں شہید ہوئے۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 232) بئر معونہ کی تفصیل پہلے صحابہ کے ذکر میں بھی آچکی ہے۔کچھ حصہ حضرت مُنذر بن عَمْرو کے حوالے سے بھی خلاصہ یہاں بیان کر دیتا ہوں جو سیرت خاتم النبیین میں سے ہی ہے۔قبائل سُلیم اور غَطفان یہ قبائل عرب کے وسط میں سطح مرتفع مسجد پر آباد تھے اور مسلمانوں کے خلاف قریش مکہ کے ساتھ ساز باز رکھتے تھے۔آپس میں ان کی مکہ کے قریش کے ساتھ ساز باز تھی کہ کس طرح اسلام کو ختم کیا جائے اور آہستہ آہستہ ان شریر قبائل کی شرارت بڑھتی جاتی تھی اور سارا سطح مرتفع نجد اسلام کی عداوت کے زہر کی لپیٹ میں آتا چلا جارہا تھا اور اس کا اثر ہو رہا تھا۔چنانچہ ان ایام میں ایک شخص ابوبراء عامری جو وسط عرب کے قبائل بنو عامر کا ایک رئیس تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا، پہلے بھی ذکر ہو