خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 601 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 601

خطبات مسرور جلد 17 601 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2019 ہوئے اور اپنا گھر بھی جماعت سینٹر کے طور پر استعمال کیا۔یہاں آ کے قائد عمومی انصار اللہ ، ایڈیشنل سیکرٹری وصایا اور پھر نیشنل سیکرٹری وصایا کے طور پر ان کو خدمت کی توفیق ملی اور جب میں نے وصیت کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے کہا تو انہوں نے کافی محنت کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیان کے اس نظام کو منظم کیا۔خلافت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق تھا۔جماعتی عہدے داروں کا احترام بھی کرتے تھے۔نمازی، تہجد گزار تھے۔چندہ جات بڑے کھلے دل سے دیتے تھے۔صدقہ و خیرات کرنے والے تھے۔غریب پرور تھے۔ملنسار تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ موصی بھی تھے۔اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے ان کے پسماندگان میں شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔درجات بلند کرے۔میرے ساتھ کالج میں ایک کلاس میں تو نہیں تھے۔ان کے مضامین مختلف تھے لیکن بہر حال میرے وقت میں کالج میں تھے اور اس طرح ان سے وہاں سے واقفیت بھی تھی۔اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم کالج میں ایک ہی کلاس میں اکٹھے پڑھتے رہے۔ایک اردو کی کلاس تھی۔وہ مشترکہ ہوا کرتی تھی تو بہر حال ہم اکٹھے ہی بیٹھتے رہے۔اس وقت بھی ان میں بڑی خوبیاں تھیں جو میں نے دیکھیں اور اپنے کام سے کام رکھنے والے تھے۔نہ کوئی شرارت جیسے لڑکوں میں شرارت ہوتی ہے اور نہ کسی کو تنگ کرنا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔اللہ بخش صادق صاحب وکیل التعلیم ربوہ ہیں۔ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ بڑے دلیر اور غیرت مند احمدی تھے۔جہلم شہر کی مسجد بہت پرانی تھی۔چھتیں بھی نیچی تھیں۔اس کے کمروں کا فرش بھی کہیں نیچا اور کہیں اونچا تھا۔چوراسی (84ء) کے بعد نامساعد حالات تھے۔اس قانون کے بعد جماعت کی مساجد بنائی بھی نہیں جاسکتیں اور مرمت بھی نہیں کی جاسکتیں لیکن راجہ صاحب نے بڑی جرات سے مسجد کی تعمیر کا کام اپنے ذمہ لیا اور بڑی عقل مندی سے امیر صاحب کے مشورے سے اس کام کو انتہا تک پہنچایا، انجام تک پہنچایا اور سڑک کی طرف دیواروں کو چھیڑے بغیر نقشے کے مطابق ہال کے ستون بنائے اور پھر بڑی حکمت سے اس پہ چھت ڈالی اور اس طرح انہوں نے خود بھی بڑی قربانی کی۔مالی قربانی بھی کی، وقت کی قربانی بھی کی، لوگوں کو بھی تحریک کی اور اس طرح مسجد کو بالکل نئے رنگ میں تبدیل کر دیا اور لنٹل (lintel) ڈال کے کمروں کی دیواریں بعد میں نکال دی گئیں۔اب خدا کے فضل سے اوپر نیچے مسجد کے دو ہال تیار ہو گئے۔چوتھا جنازہ جو ہے وہ مکرمہ صالحہ انور ابڑو صاحبہ کا ہے جو انور علی ابڑو صاحب مرحوم سندھ کی اہلیہ تھیں۔یہ یکم اکتوبر کو وفات پاگئی تھیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔بڑی دلیر اور باہمت، عبادت گزار، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والی خاتون تھیں۔بچپن سے ہی نماز روزہ کی پابند تھیں اور چندہ وغیرہ دینے والی تھیں۔خلافت سے بڑا سچا تعلق تھا۔آپ کے والد ایران سے ریٹائر منٹ لے کر جب نواب شاہ آکر آباد ہوئے تو اس وقت آپ کو جو معمولی جیب خرچ ملتا تھا اس پر چندہ ادا کرتی تھیں۔ایک دفعہ لجنہ کی ایک مرکزی عہدیدار وہاں گئیں اور اجلاس میں کھڑے ہو کر ساری لجنہ کو بتایا کہ پورے نواب شاہ کی لجنہ میں سب سے زیادہ چندہ اس بچی کا آتا ہے اور یہ آپ کی شادی سے پہلے کا واقعہ ہے۔آپ کی بیٹی