خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 600 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 600

خطبات مسرور جلد 17 600 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2019 دوسرا جنازہ مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب کا ہے جو ماہنامہ انصار اللہ پاکستان کے سابق مینیجر اور پبلشر تھے۔یہ 16 / اکتوبر کو 183 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔1957ء میں ان کی تقرری بطور سیکرٹری انصار اللہ مر کز یہ پاکستان ربوہ ہوئی۔1960ء میں جب ماہانہ انصار اللہ کا اجر اہو ا تو آپ کو اس کا مینیجر اور پبلشر مقرر کیا گیا اور 2004 ء تک بڑی خوش اسلوبی سے یہ فرائض سر انجام دیے۔انصار اللہ پاکستان میں ان کو آفس سپر نٹنڈنٹ، نائب قائد عمومی، سیکرٹری برائے صدر مجلس خدمات کی توفیق ملی۔2003ء میں ان کو ایک مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا اور پھر یہ میری اجازت سے یہاں لندن آگئے اور یہیں شفٹ ہو گئے تھے۔یہاں آکر بھی آپ کو انصار اللہ میں تقریباً آٹھ نو سال خدمت کی توفیق ملی اور نیشنل مجلس عاملہ کے رکن بھی رہے۔مرحوم موصی تھے۔وفات سے کچھ دیر پہلے اپنی بیماری کی وجہ سے ربوہ چلے گئے تھے۔وہیں ان کی وفات ہوئی۔پسماندگان میں ایک بیٹی اور پانچ بیٹے اور متعد د پوتے پوتیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کی اولاد کو اور ان کی نسل کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے اور جماعت اور خلافت سے تعلق رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔پاکستان میں جب انصار اللہ کے مینیجر تھے تو ہر بات پر ان پر مقدمہ ہو جاتا تھا۔تقریباً 26 مقدمات بنے تھے اور ایک ماہ تک آپ اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔تیسر اجنازہ مکرم راجہ مسعود احمد صاحب کا ہے جو مکرم راجہ محمد نواز صاحب مرحوم پنڈ دادن خان کے بیٹے تھے۔19 اکتوبر کو بڑی طویل علالت کے بعد 69 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ۔ان کے خاندان میں احمدیت جو ہے وہ ان کے والد صاحب کے ذریعہ سے آئی تھی۔راجہ محمد علی صاحب اس زمانے میں 1944-1943ء میں ناظر بیت المال ہوتے تھے ان کے ساتھ ان کے والد کا تعلق تھا وہ ان کو قادیان جلسے پر لے کے گئے اور وہاں انہوں نے بیعت کی اور بیعت بھی صرف اس طرح کہ کوئی دلیل وغیرہ نہیں بلکہ ایک واقعہ پیش آیا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلسے پر تقریر فرمارہے تھے تو اس دوران میں کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک خوب صورت خوبرو نوجوان ایک میلے کچیلے بچے کو گود میں اٹھائے لے کے آیا ہے اور جب بچے کا ناک بہ رہا تھا تو اس وقت اپنی جیب سے رومال نکالا اور اس کا ناک صاف کیا اور پیچھے کھڑا رہا۔حضرت مصلح موعوددؓ تقریر میں مصروف تھے۔تھوڑی دیر کے بعد جب بچہ رویا تو پھر حضرت مصلح موعودؓ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اعلان کیا کہ کسی کا گم شدہ بچہ ہے تو والدین لے جائیں۔بہر حال کہتے ہیں کہ جب میں نے پتا کیا کہ صاف ستھرے کپڑوں میں یہ نوجوان کون تھا اور بچہ میلا کچیلا تو انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے بڑے بیٹے اور اس وقت خدام الاحمدیہ کے شاید صدر بھی ہیں۔بہر حال کہتے ہیں کہ اس سے مجھے اتنا اثر ہوا کہ باقی مسائل تو بعد کی بات ہے۔جو نمونہ آج میں نے دیکھا ہے صرف اسی بات پر میں بیعت کرتا ہوں۔تو جلسوں پر آنے والے بعض لوگ ہمیشہ سے ہی ان نمونوں کو دیکھ کر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں بھی شامل ہوتے ہیں۔بہر حال راجہ صاحب 1991ء میں یو کے آگئے تھے اور یہاں کیٹ فورڈ جماعت کے پہلے صدر مقرر