خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 599 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 599

خطبات مسرور جلد 17 599 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2019 دفعہ کہا اور اس طرح پھر آپ اللہ کے حضور حاضر ہو گئیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں چار بیٹیاں شامل ہیں۔آپ منور احمد صاحب ناصر کی ساس تھیں جو دفتر پی۔ایس میں ہماری تامل ڈاک کے سلسلے میں والنٹیئر کے طور پر خدمت انجام دے رہے ہیں۔مکرم مولوی محمد عمر صاحب لکھتے ہیں کہ 1961ء میں جب میں نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کر لیا تو میری پہلی تقرری مدرسۃ الاحمدیہ میں پڑھانے پر ہوئی۔پھر حیدرآباد میں ہو گئی اور اس دوران وہاں پر ایک حادثہ بھی پیش آیا۔1967ء میں حیدرآباد میں شدید بارش کے بعد جوبلی ہال جس کی پہلی منزل پر prayer hall اور دفتر بنے ہوئے تھے اس کی دوسری منزل لجنہ اماء اللہ کے ساتھ مخصوص تھی اور تیسری منزل میں مشن ہاؤس واقع تھا، کا بیشتر حصہ اس بارش کی وجہ سے یکدم منہدم ہو گیا۔کہتے ہیں اس وقت خاکسار وہاں موجود نہیں تھا۔جب دو پہر مشن ہاؤس پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ساری عمارت گر چکی ہے۔صرف ایک چھوٹاسا کو نہ کھڑا تھا اور خاکسار کی اہلیہ تین ماہ کی بچی گود میں لے کر تیسری منزل کے کونے میں بے سہارا کھڑی تھی۔اس صورت میں میری اہلیہ اور بچی کا بیچ جانا بظاہر لا محال تھا۔بہر حال کہتے ہیں کہ جہاں وہ کھڑی تھیں اس کے نیچے بڑی گہرائی میں بلڈنگ کا ملبہ تھا۔نیچے کو د نہیں سکتی تھیں۔نیچے اترنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔فائر بریگیڈ کی طرف سے ایک سیڑھی لائی گئی لیکن کسی کو ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ سیڑھی چڑھ کر ماں اور بچی کو بچایا جائے۔اس وقت ایک فائر مین نے جو ایک بڑی عمر کا شخص تھا اس نے کہا اگر مجھے اپنی جان بھی دینی پڑے تو میں ماں اور بچی کو بچانے کی کوشش کروں گا۔پھر اس بڑی عمر کے فائر مین نے سیڑھی پر چڑھ کر پہلے بچی کو اور اس کے بعد ماں کو نیچے اتارا۔بہر حال کہتے ہیں اس طرح معجزانہ طور پر دونوں کی جانیں بچ گئیں۔کہتے ہیں بڑے صبر سے ہر جگہ انہوں نے میر اساتھ دیا۔کہتے ہیں جب میر ا تقر ر کیرالہ میں ہوا تو وہاں کیرالہ میں بھی یہ پندرہ سال تک صوبائی صدر لجنہ اماءاللہ کیرالہ رہیں اور بڑے احسن رنگ میں اپنی خدمات سر انجام دیں۔2007ء سے لے کر 2014 ء تک جب یہ ناظر اصلاح و ارشاد تھے تو قادیان میں رہی ہیں۔اس دوران ہر روز بیت الدعا میں جاکر لمبی دعائیں کیا کرتی تھیں۔پھر 2015ء میں ان کو عمرے کی سعادت بھی ملی۔عمر صاحب لکھتے ہیں کہ روزانہ نماز فجر ادا کرنے کے بعد قرآن مجید کی تلاوت کرتی تھیں۔حدیث کا مطالعہ کرتی تھیں۔یہ ان کا معمول تھا اور جس دن ان کی وفات ہوئی ہے اس دن بھی اس پر عمل کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کا بھی شوق رکھتی تھیں۔اس کے علاوہ معلومات عامہ حاصل کرنے میں بھی خاصی دل چسپی رکھتی تھیں اور یہی ایک مربی کی بیوی کی خصوصیات ہونی چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان میں موجو د تھیں۔مربیان اور عہدیداران کے بڑے مقام و مرتبہ کو سمجھتے ہوئے ان کی عزت و احترام کرنے والی خاتون تھیں۔مہمانوں کی مہمان نوازی میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دیتی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔درجات بلند کرے اور ان کی اولاد کو ان کی دعاؤں کا وارث بنائے۔