خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 598 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 598

خطبات مسرور جلد 17 598 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2019 حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ جب عبد اللہ بن ابی بن سلول مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی گئی ( یہ روایت حضرت عمرؓ نے براہ راست بھی بیان فرمائی ہے ) کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں آپ کی طرف لپکا اور میں نے کہا کہ یارسول اللہ ! کیا آپ ابن ابی کا نماز جنازہ پڑھتے ہیں اور اس نے تو فلاں دن یہ بات کہی تھی اور فلاں دن یہ بات کہی تھی۔میں نے باتیں گنوانی شروع کر دیں۔میں اس کے خلاف اس کی باتیں گنے لگا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا عمر ہٹ جاؤ۔جب میں نے آپ سے بہت اصرار کیا تو آپ نے فرمایا مجھے تو اختیار دیا گیا ہے سو میں نے اختیار کر لیا ہے اور اگر میں یہ جانوں اور مجھے یہ پتا ہو کہ میں ستر بار سے زیادہ اس کے لیے دعائے مغفرت کروں اور وہ بخشا جائے گا تو میں ضرور اس سے بھی زیادہ کروں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔پھر آپ کوٹ آئے اور تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ سورہ براء یعنی سورہ تو بہ کی یہ دو آیتیں نازل ہوئیں کہ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَمَاتُوْا وَهُمْ فسِقُونَ ( التوبة: 84) یعنی تو ان میں سے کسی کی بھی جو مر جائے کبھی نماز جنازہ نہ پڑھ اور تو اس کی قبر پہ کھڑا نہ ہو کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور وہ ایسی حالت میں مرگئے کہ وہ بد عہد تھے۔حضرت عمرؓ کہتے تھے کہ اس کے بعد میں نے اپنی جسارت پر تعجب کیا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بولنے کی یہ ت جرات کس طرح کر لی جو میں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دکھائی تھی اور اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔(صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ما يكره من الصلاة على المنافقين حديث 1366) یہ حضرت عبد اللہ کے ذکر میں یہ واقعہ اب ختم ہو ا۔آئندہ صحابہ کا ذکر ہو گا جو باقی ہیں۔اس وقت میں چند وفات یافتگان کے ذکر کروں گا اور جمعہ کے بعد، نمازوں کے بعد ان کا نماز جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔اس میں پہلا جو ذکر ہے وہ مکرمہ امۃ الحفیظ صاحبہ کا ہے جو مکرم مولانا محمد عمر صاحب کیرالہ انڈیا کی اہلیہ تھیں۔20 اکتوبر کو 72 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ۔1947ء میں آپ کیرالہ میں پید اہوئی تھیں۔مرحومہ کے خاندان میں احمدیت ان کے پڑنانا کے ذریعے آئی تھی جو کیرالہ کے ابتدائی احمدیوں میں سے تھے۔آپ کو چنئی میں سیکرٹری مال اور کیرالہ میں لمبا عرصہ بطور صدر لجنہ خدمت کی توفیق ملی۔قرآن کریم اور تہجد کی ادائیگی میں بڑی با قاعدہ تھیں۔لجنہ اور ناصرات کو بھی قرآن کریم پڑھایا کرتی تھیں۔تمام فرضی اور نفلی روزے رکھتی تھیں۔اپنی زندگی کے آخر تک مولانا محمد عمر صاحب کی بہت خدمت کی۔بہت مہمان نواز اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار تھیں۔بڑی نیک خاتون تھیں۔خلافت کے ساتھ گہر اعقیدت کا تعلق تھا۔جہاں جہاں بھی آپ رہیں مشن ہاؤسز میں آنے والے احباب کے ساتھ بہت اخلاص کا تعلق تھا۔بہت اخلاص سے خدمت کیا کرتی تھیں۔وفات سے پہلے آپ کو تین دفعہ ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور تیسری دفعہ جب ہارٹ اٹیک ہوا تو آپ نے مولوی عمر صاحب کو بتایا کہ میری وفات کا وقت نزدیک آچکا ہے اور اس کے بعد کہا کہ میر اسلام سب کو پہنچا دیں۔پھر اونچی آواز میں اللہ اکبر تین