خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 597 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 597

خطبات مسرور جلد 17 597 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2019 اسے کر تہ عنایت فرمایا۔ایک دوسری روایت میں یہ بھی الفاظ ملتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ کا والد یعنی عبد اللہ بن ابی بن سلول فوت ہوا تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ اپنی قمیض دیں تا کہ میں اپنے والد کو اس کے ذریعے کفن دوں اور اس پر نماز جنازہ پڑھیں اور اس کے لیے استغفار کر دیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیض عطا کی اور فرمایا کہ جب تم لوگ تجہیز و تکفین کے معاملات سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بلا لینا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھنے لگے تو حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کی نماز جنازہ سے منع کیا ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں ان کے لیے استغفار کروں یا نہ کروں۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی پھر جب اللہ تعالیٰ نے ایسے افراد کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کی کلیة ممانعت فرما دی تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کی نماز جنازہ پڑھانی بند کر دی۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جزء ثالث صفحه 941" عبد الله بن عبد الله انصاری‘ دار الجيل بيروت) یہ بھی روایت ہے کہ جب آپ پہنچے تو اس کو قبر میں رکھا جا چکا تھا۔آپ نے باہر نکلوایا۔اپنی ٹانگوں پر اس کا سر رکھا اور پھر اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور پھر دعا کی اور قمیض کرتہ اتار کے دیا۔(صحيح البخارى كتاب الجنائز باب هل يخرج الميت من القبر۔۔۔حديث نمبر 1350) ایک روایت یہ بھی ہے حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب بدر کی جنگ ہوئی تو کافروں کے قیدی لائے گئے اور عباس بھی لائے گئے ان پر کوئی کپڑا نہ تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کر تہ تلاش کیالوگوں نے عبد اللہ بن اُبی کا کرتہ ان کے لیے ٹھیک پایا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ان کو پہنادیا اور اس وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی کے لیے اس کے مرنے کے بعد اپنا کرتہ اتار کر اسے دے دیا کہ اسے پہنایا جائے۔ابن عیینہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے نیک سلوک کیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اس سے نیک سلوک فرمائیں۔(صحیح البخارى كتاب الجهاد باب الكسوة للاسارى حديث نمبر3008) ایسی روایت گو کہ صحیح بخاری کے حوالے سے بھی ہے لیکن یہ اتنی authentic صحیح بھی نہیں لگتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین تھے۔صرف اسی سلوک کی وجہ سے یہ بات یا صرف یہی بات نہیں ہو سکتی۔ایک تو یہ ہے کہ بعضوں کے نزدیک اس وقت بدر کی جنگ میں یہ مسلمان بھی نہیں تھا اور اگر بالفرض قمیض اتار کے دی بھی تھی تو اس دوران میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہ بے شمار احسانات کیسے تھے۔بہر حال یہ شفقت کا سلوک تھا جو میرے خیال میں تو حضرت عبد اللہ کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا کہ بیٹے نے جو ہر معاملے میں اسلام کی غیرت رکھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت رکھی اور اپنے ایمان کو بچایا اور سختی بھی کی تو اس لیے بچے کی دل داری کے لیے ، بیٹے کی دل داری کے لیے یا اس کی خواہش کی وجہ سے آپ نے یہ قمیض اتار کے دی تھی۔