خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 596
خطبات مسرور جلد 17 596 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2019 میں بری ہوں میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی اور اللہ جانتا ہے کہ میں فی الواقعہ بری ہوں۔آپ مجھے سچا نہیں سمجھیں گے اور اگر میں آپ کے پاس کسی بات کا اقرار کر لوں حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں بری ہوں۔میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی مگر آپ اس اقرار میں مجھے سچا سمجھ لیں گے کیونکہ لوگوں میں یہ اتنا مشہور ہو چکا ہے۔ہر ایک قائل ہو چکا ہے۔بعض صحابہ جو ہیں وہ بھی ایسی باتیں کر رہے ہیں۔پھر کہتی ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم !میں اپنی اور آپ کی کوئی مثال نہیں پاتی سوائے یوسف کے باپ کی۔انہوں نے کہا تھا کہ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ على مَا تَصِفُونَ کہ صبر کرنا ہی اچھا ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہیے اس بات میں جو تم لوگ بیان کر رہے ہو۔یہ سورۃ یوسف میں ہے۔اس کے بعد کہتی ہیں میں ایک طرف ہٹ کر اپنے بستر پر آگئی اور میں امید کرتی تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے ضرور بری کرے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائے گا کہ میں اس الزام سے بری ہوں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس واقعہ کے بعد، جب میں نے یہ بات کہی اس کے بعد اللہ کی قسم ! آپ ابھی بیٹھنے کی جگہ سے الگ نہیں ہوئے تھے جب آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کہی ہے۔تو اس وقت حضرت ابو بکر بھی تھے اور عائشہ کی والدہ بھی تھیں، دونوں تھے۔کہتی ہیں کہ آپ نہ گھر والے بھی کوئی اور نہ اہل بیت میں سے کوئی باہر گیا تھا ، سب گھر والے وہیں تھے۔اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور سخت تکلیف آپ کو ہوا کرتی تھی جب وحی ہوتی تھی۔وہ آپ کو ہونے لگی۔جسم پسینے سے شرابور ہو جاتا تھا۔کہتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی حالت جاتی رہی تو آپ مسکرا رہے تھے اور پہلی بات جو آپ نے فرمائی یہ تھی کہ عائشہ ! اللہ کا شکر بجالاؤ کیونکہ اللہ نے تمہاری بریت کر دی ہے۔میری ماں نے مجھے سے کہا کہ اٹھور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔میں نے کہا اللہ کی قسم !ہر گز نہیں۔ان کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔میں ان کے پاس اٹھ کر نہیں جاؤں گی اور اللہ کے سوا کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی تھی کہ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ کہ وہ لوگ جنہوں نے بہتان باندھا ہے وہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہے۔ان سب باتوں کے باوجود بہر حال یہ بریت ہو گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر دیا۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرما دی بلکہ حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رؤیا یا کسی اور رنگ میں بتادے گا۔یہ مجھے امید نہیں تھی کہ قرآن کریم کی آیت اس بارے میں اتر آئے گی۔(صحيح البخارى كتاب الشهادات باب تعديل النساء بعضهن بعض حديث نمبر 2661) تو یہ معاملہ ختم ہوا اور یہ الزامات لگتے رہے اور مختلف حرکتیں ہوتی رہیں لیکن ان سب باتوں کے باوجود اس رئیس المنافقین کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین کا جو سلوک تھاوہ کیا تھا؟ حضرت عبد اللہ کے والد کی جو وفات ہوئی یعنی عبد اللہ بن ابی کی تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کی نماز جنازہ کے لیے درخواست کی۔اسی طرح انہوں نے یہ بھی درخواست کی کہ آپ اپنی قمیض عنایت فرمائیں تاکہ وہ بطور کفن اپنے والد کے لیے استعمال کر سکے اور اس طرح شاید میرے والد سے تخفیف ہو سکے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے