خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 595 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 595

خطبات مسرور جلد 17 595 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2019 وہاں ایک ماہ تک بیمار رہی۔کسی وجہ سے بیمار ہو گئی تھی۔میری اس بیماری کے اثنا میں تہمت لگانے والوں کی باتوں کا لوگ چر چا کرتے رہے اور جو بات ان کو نہیں پتا لگا کہ کیا باتیں ہو رہی ہیں لیکن اس اثنا میں کہتی ہیں جو بات مجھے شک میں ڈالتی تھی وہ یہ تھی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ مہربانی نہ دیکھتی تھی جو میں آپ سے اپنی بیماری میں دیکھا کرتی تھی۔آپ صرف اندر آتے اور السلام علیکم کہتے۔پھر پوچھتے اب وہ کیسی ہے ؟ کہتی ہیں مجھے اس تہمت کا کچھ بھی علم نہیں تھا۔کہتی ہیں ایک دن ام مسطح کے ساتھ میں باہر گئی۔رفع حاجت کے لیے باہر جایا کرتے تھے۔تب اس نے مجھے تہمت لگانے والوں کی بات سنائی۔جب میں اپنے گھر لوٹی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور آپ نے السلام علیکم کہا اور آپ نے پوچھا اب تم کیسی ہو ؟ میں نے اس پر عرض کیا کہ مجھے اپنے والدین کے پاس جانے دیں۔آپ نے مجھے اجازت دے دی۔میں اپنے والدین کے پاس آئی تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا بیٹی اس بات سے اپنی جان کو جنجال میں نہ ڈالو۔اطمینان سے رہو۔لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں۔میں نے کہا سبحان اللہ لوگ ایسی بات کا چرچا کر رہے ہیں۔کہتی تھیں کہ جب مجھے یہ پتا لگا کہ میرے پہ یہ تہمت لگی ہے تو میں نے وہ رات اس طرح کائی کہ صبح تک نہ میرے آنسو تھے اور نہ مجھے نیند آئی۔بہر حال اس تہمت کی باتیں ہوتی رہیں بعض صحابہ سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کیا اور کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو جو ذاتی خدمت کے لیے حضرت عائشہ کی خادمہ تھیں ان کو بلایا اور آپ نے کہا کہ بریرہ کیا تم نے اس میں یعنی حضرت عائشہ میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو تمہیں شبہ میں ڈالے؟ بریرہ نے کہا کہ ہر گز نہیں۔کوئی ایسی بات میں نے نہیں دیکھی اور کہنے لگی کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے حضرت عائشہ میں اس سے زیادہ کوئی اور بات نہیں دیکھی جس کو میں ان کے لیے معیوب سمجھوں یعنی سب سے بڑی کمزوری جو میں نے دیکھی ہے وہ یہی ہے کہ وہ کم عمر لڑ کی ہیں۔لڑکپن ہے اور نیند زیادہ آتی ہے اور آٹا چھوڑ کر بعض دفعہ سو جاتی ہیں اور گھر میں بکری آتی ہے اور وہ کھا جاتی ہے یعنی کہ بس بے احتیاطی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں یا ان کو نیند زیادہ آتی ہے۔یہ سن کر اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب فرمایا اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کی شکایت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے شخص کو کون سنبھالے جس نے میری بیوی کے بارے میں مجھے دکھ دیا ہے۔اور آپ نے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اپنی بیوی میں سوائے بھلائی کے اور کوئی بات مجھے معلوم نہیں اور ان لوگوں نے جس پر الزام لگایا تھا اس کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ ایسے شخص کا ذکر کیا ہے جس کی بابت بھی مجھے بھلائی کے سوا کوئی علم نہیں اور میرے گھر والوں کے پاس جب بھی وہ آیا کرتے ہیں تو میرے ساتھ ہی آتے تھے کبھی اکیلے نہیں آئے۔بہر حال مختصر یہ کہ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بھی براہ راست اس بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ بخدا مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ آپ لوگوں نے وہ بات سنی ہے جس کا لوگ آپس میں تذکرہ کرتے ہیں۔باتیں کر رہے ہیں۔مجھ پر الزام لگارہے ہیں۔اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ