خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 594
خطبات مسرور جلد 17 594 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2019 گندے الزامات لگائے گئے تھے اور اس تہمت کا بانی عبد اللہ بن ابی بن سلول تھا۔واقعہ افک کے متعلق گذشتہ سال کے آخر میں ایک خطبے میں تفصیل بیان کر چکا ہوں۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 14/ دسمبر 2018ء، الفضل انٹر نیشنل14 جنوری2019) لیکن اس حوالے سے بھی یہاں کچھ بیان کر دیتا ہوں۔حضرت عائشہ کی روایت بھی یہی ہے۔وہ پوری روایت تو نہیں اس کا کچھ حصہ بیان کروں گا۔آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر میں نکلنے کا ارادہ فرماتے تو آپ اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے۔پھر جس کا قرعہ نکلتا آپ اس کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔چنانچہ اس سفر میں ہمارے در میان قرعہ ڈالا گیا تو میر ا قرعہ نکلا۔میں آپ کے ساتھ گئی۔اس وقت حجاب کا حکم اتر چکا تھا۔پر دے کا حکم آگیا تھا۔میں ہو دج میں بٹھائی جاتی اور ہو دج سمیت اتاری جاتی رہی۔ایک بند کرسی تھی، پردے لٹکے ہوتے تھے ،اس میں بٹھایا جاتا اور وہ اونٹ پر رکھ دیا جاتا تھا۔کہتی ہیں ہم اسی طرح سفر میں رہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہم سے فارغ ہوئے اور واپس آئے اور ہم مدینے کے قریب ہی تھے کہ ایک رات آپ نے کوچ کا حکم دیا۔جب لوگوں نے کوچ کا اعلان کیا تو میں بھی چل پڑی اور فوج سے آگے نکل گئی۔حاجت کی ضرورت تھی، جب میں اپنی حاجت سے فارغ ہوئی تو اپنے ہو دج کی طرف آئی اور میں نے اپنے سینے کو ہاتھ لگایا تو کیا دیکھتی ہوں کہ کالے نگینوں کا ایک ہار تھا وہ ٹوٹ کر میرے گلے سے گر گیا ہے۔میں واپس لوٹی۔اپنا ہار ڈھونڈنے لگی۔اتنے میں وہ لوگ جو میرے اونٹ کو تیار کرتے تھے ، آئے اور انہوں نے میرا ہودج اٹھالیا اور وہ ہو دج میرے اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی۔وہ سمجھے کہ میں اسی میں بیٹھی ہوئی ہوں۔بہر حال انہوں نے اونٹ کو اٹھا کر چلا دیا اور خود بھی چل پڑے۔جب سارا لشکر گزر چکا تو اس کے بعد میں نے اپنا گما ہو اہار جو تھا اس کو پا لیا۔دیکھ لیا اٹھا لیا۔مجھے مل گیا۔پھر میں اپنے اس ڈیرے کی طرف گئی، اس جگہ گئی جس میں میں تھی اور میں نے خیال کیا کہ وہ مجھے نہ پائیں گے اور میرے پاس لوٹ آئیں گے۔کہتی ہیں میں ڈیرے پر گئی تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا تو پھر میں نے بہر حال یہی خیال کیا کہ مجھے جب ہو دج میں نہیں دیکھیں گے تو واپس میری طرف آئیں گے۔کہتی ہیں میں بیٹھی ہوئی تھی تو اسی اثنا میں آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی۔صفوان بن معطل سلمی ذکوانی فوج کے پیچھے یہ دیکھنے کے لیے رہا کرتے تھے کہ کوئی چیز پیچھے تو نہیں رہ گئی۔کہتے ہیں وہ صبح ڈیرے پر آئے جہاں ہمارا پڑاؤ تھا اور انہوں نے ایک سوئے ہوئے انسان کا وجو د دیکھا اور میرے پاس آئے اور حجاب کے حکم سے پہلے کیونکہ وہ مجھے دیکھا کرتے تھے تو انہوں نے جب دیکھا کہ میں ہوں تو انہوں نے إِنَّا لِلهِ پڑھا۔ان کے انا للہ پڑھنے پر میں جاگ گئی۔بہر حال اس کے بعد انہوں نے اپنی اونٹنی بٹھائی اور میں اس پر سوار ہو گئی۔وہ اونٹنی کی نکیل پکڑ کر چل پڑے یہاں تک کہ ہم اس وقت فوج میں پہنچے جب لوگ ٹھیک دوپہر کے وقت آرام کرنے کے لیے ڈیروں میں تھے۔پھر کہتی ہیں کہ جس کو ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہو گیا۔یعنی الزام لگا کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال لیا اور اس تہمت کا بانی عبد اللہ بن ابی بن سلول تھا۔بہر حال کہتی ہیں ہم مدینے پہنچے۔میں