خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 593 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 593

خطبات مسرور جلد 17 593 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2019 دیر میں عبد اللہ بن ابی کا لڑکا جس کا نام حباب تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدل کر عبد اللہ کر دیا تھا یعنی یہی حضرت عبد اللہ جن کا ذکر ہو رہا ہے۔وہ ایک نہایت مخلص صحابی تھے، گھبرائے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔یارسول اللہ ! میں نے سنا ہے کہ آپ میرے باپ کی گستاخی اور فتنہ انگیزی کی وجہ سے اس کے قتل کا حکم دینا چاہتے ہیں۔اگر آپ کا یہی فیصلہ ہے تو آپ مجھے حکم فرما ئیں میں ابھی اپنے باپ کا سرکاٹ کر آپ کے قدموں میں لا ڈالتا ہوں مگر آپ کسی اور کو ایسا ارشاد نہ فرمائیں کیونکہ میں ڈر تاہوں کہ جاہلیت کی کوئی رگ کسی وقت میرے بدن میں جوش مارے اور میں اپنے باپ کے قاتل کو کوئی نقصان پہنچا بیٹھوں اور خدا کی رضا چاہتا ہوا بھی جہنم میں جاگروں۔چاہتا تو میں یہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کروں لیکن ایک مسلمان کو قتل کر کے میں جہنم میں چلا جاؤں۔آپ نے انہیں تسلی دی اور فرمایا کہ ہمارا ہر گز یہ ارادہ نہیں ہے بلکہ ہم بہر حال تمہارے والد کے ساتھ نرمی اور احسان کا معاملہ کریں گے۔مگر عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی کو اپنے باپ کے خلاف اتنا جوش تھا کہ جب لشکر اسلامی مدینے کی طرف لوٹا تو عبد اللہ اپنے باپ کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ خدا کی قسم ! میں تمہیں واپس نہیں جانے دوں گا جب تک تم اپنے منہ سے یہ اقرار نہ کرو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معزز ہیں اور تم ذلیل ہو اور عبد اللہ نے اس اصرار سے اپنے باپ پر زور ڈالا کہ آخر اس نے مجبور ہو کر یہ الفاظ کہہ دیے جس پر عبد اللہ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین صفحہ 559،557تا561) ابن سعد نے ان الفاظ میں یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو کوچ کا حکم دیا تو عبد اللہ بن ابی کے بیٹے حضرت عبد اللہ نے اپنے والد کا راستہ روک لیا اور اونٹ سے نیچے اتر آئے اور اپنے والد سے کہنے لگے کہ جب تک تم یہ اقرار نہیں کرتے کہ تو ذلیل ترین اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) عزیز ترین ہیں تب تک میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دیکھ لیا۔فرمایا اسے چھوڑ دو۔آپ نے فرمایا کہ میری عمر کی قسم ! ہم اس سے ضرور اچھا برتاؤ کریں گے جب تک یہ ہمارے درمیان زندہ ہے۔(الطبقات الكبرى جزء 2 صفحه 50 غزوة رسول الله ،المريسيع دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) یہ طبقات الکبری میں درج ہے اور اس کے علاوہ یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ حضرت عبد اللہ کے والد عبد اللہ بن ابی نے یہ کہا کہ لَيُخْرِ جَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ۔یعنی عزت والا شخص یا گروہ ذلیل شخص یا گروہ کو اپنے شہر سے باہر نکال دے گا تو حضرت عبد اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ !وہی ذلیل ہے اور آپ ہی عزیز ہیں۔خود بیٹے نے اپنے باپ کے بارے میں کہا۔الاستيعاب في معرفة الاصحاب جزء ثالث صفحه 941" عبد الله بن عبد الله انصاری‘دار الجيل بيروت) پھر ایک ناپاک تہمت جو منافقین کی طرف سے لگائی گئی، واقعہ افک سے اس کا تعلق ہے جس کا بانی مبانی عبد اللہ بن ابی بن سلول تھا۔غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر افک کا واقعہ پیش آیا جس میں حضرت عائشہ کی ذات پر