خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 44
خطبات مسرور جلد 17 44 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2019 مسلمان ہو گئے۔جب یہ لوگ مدینہ آئے تو انہوں نے مدینہ والوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر کیا۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 492 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) اس کا تفصیلی ذکر پہلے عُقبہ بن عامر بن نابی کے ذکر میں ہو چکا ہے۔مختصر ذکر میں یہاں کر دیتا ہوں۔یہ لوگ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوئے تو جاتے ہوئے عرض کیا کہ ہمیں خانہ جنگیوں نے بہت کمزور کر دیا ہے۔ہمارے اندر آپس میں بہت نا اتفاقیاں ہیں اور ہم یثرب میں جا کر اپنے بھائیوں کو اسلام کی تبلیغ کریں گے اور کوئی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے پیغام کے ذریعہ سے، ہماری تبلیغ کے ذریعہ سے ہمیں پھر جمع کر دے اور ہم جب اکٹھے ہو جائیں گے تو پھر ہر طرح آپ کی مدد کے لئے تیار ہوں گے۔چنانچہ یہ لوگ گئے اور ان کی وجہ سے یثرب میں اسلام کا چرچا ہونے لگا۔یہ سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں یثرب والوں کی طرف سے ظاہری حالات اور اسباب کے لحاظ سے اس طرح گزارا جس میں خوف بھی تھا اور امید بھی تھی کہ دیکھیں یہ چھ مصد قین جو گئے ہیں، جنہوں نے بیعت کی ہے ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔آیا یثرب میں بھی کوئی کامیابی ملتی ہے، کوئی امید بنتی ہے یا نہیں۔کیونکہ باقی جگہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ صرف بڑا انکار تھا بلکہ مخالفت بھی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔مکہ اور رؤسائے طائف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو سختی سے رڈ کر چکے تھے اور دیگر قبائل بھی ان کے زیر اثر ایک ایک کر کے رڈ کر رہے تھے۔تو ان کی بیعت کی وجہ سے مدینہ میں ایک امید کی کرن پیدا ہوئی تھی لیکن اس کی بھی کوئی تسلی نہیں تھی۔کون کہہ سکتا تھا کہ یہ چھے ماننے والے جن سے امید کی کرن پید ا ہوئی ہے اگر ان کے خلاف بھی دشمن کھڑا ہوا تو یہ مصیبتوں اور مشکلات کا مقابلہ کر سکیں گے۔بہر حال یہ گئے ، انہوں نے تبلیغ کی، لیکن اس دوران میں مکہ والوں کی طرف سے بھی دشمنی اور مخالفت روز بروز بڑھ رہی تھی اور وہ لوگ اس بات پر پر یقین تھے کہ اسلام کو مٹانے کا اب یہی وقت ہے کیونکہ اگر مکہ سے باہر نکلنا شروع ہو گیا اور پھیلنا شروع ہو گیا تو پھر اسلام کو مٹانا مشکل ہو گا۔اس لئے مکہ والوں نے بھی مخالفت اپنے پورے زوروں پر کی ہوئی تھی۔لیکن اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مخلص صحابہ جو تھے جنہوں نے بیعت کی تھی، مسلمان ہوئے تھے ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنی بات پر قائم تھے۔کوئی بات ان کو اسلام کی تعلیم سے اور اسلام سے ہٹا نہیں سکتی تھی، توحید سے ہٹا نہیں سکتی تھی۔بہر حال اسلام کے لئے ایک بہت نازک وقت تھا اور امید بھی تھی، خوف بھی تھا کہ مدینہ میں یہ لوگ گئے ہیں تو دیکھیں ان کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔پھر اگلے سال مدینہ سے ایک وفد پھر حج کے موقع پر آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑے شوق کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے اور منی کی جانب عقبہ کے پاس پہنچ کر ادھر اُدھر نظر دوڑائی تو اچانک آپ کی نظر میثرب کی ایک چھوٹی سی جماعت پر پڑی جنہوں نے آپ کو دیکھ کر فورا پہچان لیا اور نہایت محبت اور اخلاص سے آگے بڑھ کر آپ کو ملے۔ان میں سے پانچ تو وہی تھے جو پہلے بیعت کر کے گئے تھے اور سات نئے تھے اور یہ لوگ اوس اور خزرج دونوں قبیلوں میں سے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر لوگوں سے الگ ہو کر ایک گھائی میں، ایک وادی میں ان کو ایک طرف لے گئے اور وہاں سے جو یہ بارہ افراد کا وفد آیا تھا انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم