خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 592 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 592

خطبات مسرور جلد 17 592 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2019 متعلق یہ الفاظ سنے تو بے تاب ہو گیا اور فوراً اپنے چا کے ذریعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی اطلاع دی۔اب یہ دیکھیں کہ بچے بھی کس حد تک اخلاص اور وفار کھتے تھے اور بڑے ہوشیار رہتے تھے اور سمجھتے تھے کہ کیا بات غلط ہے اور کیا صحیح۔بہر حال اس نے اپنے چا کو اطلاع دی۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت عمر بھی بیٹھے تھے۔وہ یہ الفاظ سن کر غصے اور غیرت سے بھر گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنے لگے کہ یارسول اللہ !مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق فتنہ پرداز کی گردن اڑا دوں۔آپ نے فرمایا عمر ! جانے دو۔کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ لوگوں میں یہ چر چاہو کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرواتا پھرتا ہے۔- پھر آپ نے عبد اللہ بن اُبی اور اس کے ساتھیوں کو بلوایا اور ان سے دریافت فرمایا کہ یہ کیا معاملہ ہے ؟ یہ بات میں نے سنی ہے۔وہ سب قسمیں کھا گئے کہ ہم نے تو کوئی ایسی بات نہیں کی۔بعض انصار نے بھی بطریق سفارش، سفارش کے طور پر یہ عرض کیا کہ زید بن ارقم کو غلطی لگی ہوگی یہ اس طرح بات نہیں کر سکتا۔آپ نے اس وقت عبد اللہ بن اُبی اور اس کے ساتھیوں کے بیان کو قبول فرمالیا اور زید کی بات رد کر دی جس سے زید کو سخت تکلیف پہنچی اور صدمہ ہوا مگر بعد میں قرآنی وحی نے جو آیت میں نے پڑھی ہے زید کی بات کی تصدیق فرمائی اور منافقین کو جھوٹا قرار دیا۔ادھر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی وغیرہ کو بلا کر اس بات کی تصدیق شروع فرما دی اور اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ سے ارشاد فرمایا کہ اسی وقت لوگوں کو کوچ کا حکم دو۔یہ وقت دو پہر کا تھا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عموماً دو پہر کو کوچ نہیں فرمایا کرتے تھے ، سفر نہیں شروع کیا کرتے تھے کیونکہ عرب کے موسم کے لحاظ سے یہ وقت سخت گرمی کا وقت ہوتا ہے اور اس میں سفر کرنا بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کے حالات کے مطابق یہی مناسب خیال فرمایا کہ ابھی یہاں سے روانہ ہو جایا جائے۔چنانچہ آپ کے حکم کے ماتحت فوراً اسلامی لشکر واپسی کے لیے تیار ہو گیا۔غالباً اسی موقعے پر اُسید بن حضیر انصاری جو قبیلہ اوس کے نہایت نامور رئیس تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ تو عموماً ایسے وقت میں سفر نہیں فرمایا کرتے آج کیا معاملہ ہے کہ اس وقت دو پہر کو سفر شروع کرنے لگے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اُسید ! کیا تم نے نہیں سنا کہ عبد اللہ بن ابی نے کیا الفاظ کہے ہیں ؟ وہ کہتا ہے کہ ہم مدینہ چل لیں وہاں پہنچ کر عزت والا شخص ذلیل شخص کو باہر نکال دے گا۔اُسید نے بے ساختہ عرض کیا کہ ہاں یارسول اللہ ٹھیک ہے۔یہ بات تو ہے لیکن آپ چاہیں تو بے شک عبد اللہ کو مدینے سے باہر نکال سکتے ہیں کیونکہ واللہ ! عزت والے آپ ہیں وہ نہیں اور وہی ذلیل ہے۔پھر اُسید بن حضیر نے عرض کیا کہ یار سول اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ آپ کے تشریف لانے سے پہلے عبد اللہ بن ابی اپنی قوم میں بہت معزز تھا اور اس کی قوم اس کو اپنا بادشاہ بنانے کی تجویز میں تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے اس کی کوششیں جو خاک میں مل گئیں۔پس اس وجہ سے اس کے دل میں آپ کے متعلق حسد بیٹھ گیا ہے۔اس لیے آپ اس کی اس بکو اس کی کچھ پروانہ کریں اور اس سے در گزر فرمائیں۔تھوڑی