خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 591 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 591

خطبات مسرور جلد 17 اڑانا اور طعنے دینا شروع کر دیے۔591 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2019 (ماخوذ از سیرت خاتم النبیین صفحه 506) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے صرفِ نظر ہی فرماتے رہے اور بجائے اس کے کہ اس نرمی کے سلوک سے ان کو کچھ شرمندگی ہوتی یہ لوگ ڈھٹائی میں اور دریدہ دہنی میں بڑھتے چلے گئے۔رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کی دریدہ دہنی اور اس کے بیٹے حضرت عبد اللہ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور فدائیت کا اظہار اس ایک واقعے سے ہو جاتا ہے کہ 15 ہجری میں غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چند دن مریسیع میں قیام فرمایا۔یہ بنو مصطلق کے پانی کے ایک چشمے کا نام ہے۔مگر اس قیام کے دوران منافقین کی طرف سے ایک ایسا نا گوار واقعہ پیش آیا جس سے قریب تھا کہ کم زور مسلمانوں میں خانہ جنگی تک نوبت پہنچ جاتی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موقع شناسی اور آپ کے مقناطیسی اثر نے اس فتنے کے خطرناک نتائج سے مسلمانوں کو بچالیا۔واقعہ یوں ہوا کہ حضرت عمر کا ایک نوکر جنجاہ نامی تھاوہ مریسیع کے مقامی چشمے پر پانی لینے کے لیے گیا۔اتفاقاً اس وقت ایک دوسرا شخص سنان نامی بھی پانی لینے کے لیے وہاں پہنچا جو انصار کے حلیفوں میں سے تھا۔یہ دونوں شخص جاہل تھے اور بالکل عامی لوگوں میں سے تھے۔چشمے پر یہ دونوں شخص آپس میں جھگڑ پڑے اور جنجاہ نے سنان کو ایک ضرب لگائی، اس کو مارا۔بس پھر سنان نے زور زور سے شور مچانا شروع کر دیا، چلانا شروع کر دیا کہ اے انصار کے گروہ! میری مدد کو پہنچو کہ میں پٹ گیا اور مجھ پر حملہ ہو گیا۔جب جنجاہ نے دیکھا کہ سنان نے اپنی قوم کو بلایا ہے تو وہ بھی جاہل آدمی تھا، اس نے بھی اپنی قوم کے لوگوں کو پکار ناشروع کر دیا کہ اے مہاجرین ! بھا گو دوڑو۔انصار اور مہاجرین کے کانوں میں یہ آواز میں پہنچیں تو وہ اپنی تلواریں لے کر بے تحاشا اس چشمے کی طرف لپکے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ایک اچھا خاصا مجمع جمع ہو گیا اور قریب تھا کہ بعض جاہل نوجوان ایک دوسرے پر حملہ آور ہو جاتے لیکن اتنے میں بعض سمجھ دار اور مخلص مہاجرین و انصار بھی موقعے پر پہنچ گئے اور انہوں نے فور لوگوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے صلح صفائی کروادی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ یہ ایک جاہلیت کا مظاہرہ ہے اور اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور بہر حال اس طرح معاملہ بہر حال رفع دفع ہو گیا لیکن جب منافقین کے سردار عبد اللہ بن اُبی بن سلول کو جو اس غزوے میں شامل تھا جو بنو مصطلق میں تھا، جس میں آپ گئے تھے اس واقعے کی اطلاع پہنچی تو اس بدبخت نے اس فتنے کو پھر جگانا چاہا اور اپنے ساتھیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف بہت کچھ اکسایا اور یہ کہا کہ یہ سب تمہارا قصور ہے کہ تم نے ان بے خانماں، بے سہارا مسلمانوں کو پناہ دے کر ان کو سر پر چڑھا لیا ہے۔اب بھی تمہیں چاہیے کہ ان کی مدد سے ان کی اعانت سے دست بردار ہو جاؤ۔پھر یه خود بخود مدینے کو چھوڑ چھاڑ کر چلے جائیں گے اور بالآخر اس بدبخت نے یہاں تک کہہ دیا کہ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ - (المنافقون: 9) که قرآن شریف میں، سورۃ المنافقون میں ہے کہ یعنی دیکھو تو اب مدینے میں جاکر عزت والا شخص یا گروہ جو ہے وہ ذلیل شخص یا گروہ کو اپنے شہر سے باہر نکال دیتا ہے کہ نہیں؟ اس وقت ایک مخلص مسلمان بچہ زید بن ارقم بھی وہاں بیٹھا ہوا تھا اس نے عبد اللہ کے منہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم