خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 590 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 590

خطبات مسرور جلد 17 590 46 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 15 / نومبر 2019ء بمطابق 15 / نبوت 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ (سرے) یو کے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بدری صحابہ کے متعلق میں نے خطبات کا جو سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اس کے متعلق گذشتہ خطبہ جو میں نے دیا وہ جرمنی میں تھا اس میں حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی بن سلول کا ذکر چل رہا تھا اور اس ضمن میں حضرت عبد اللہ کے باپ عبد اللہ بن اُبی بن سلول کا ذکر جہاں میں نے ختم کیا تھاوہ جنگ احد کے حوالے سے ہوا تھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کی بات مان کر مدینے سے باہر جاکر دشمن کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا تو عبد اللہ بن ابی پہلے تو اپنے ساتھیوں سمیت ساتھ چل پڑا لیکن احد کے دامن میں پہنچ کر اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر غداری دکھاتے ہوئے مدینے کی طرف یہ کہتے ہوئے واپس لوٹ گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات نہیں مانی اور مدینے میں رہ کر دشمن کا دفاع نہیں کیا جو ہم چاہتے تھے اور یہ بھی کہا کہ یہ بھی کوئی لڑائی ہے۔یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والی بات ہے اور وہ کہنے لگا کہ میں اس ہلاکت میں اپنے آپ کو نہیں ڈالتا۔بہر حال اس کے دل میں شروع سے ہی نفاق تھا، منافقت تھی اور منافق بزدل ہوتا ہے اور یہ بزدلی یہاں آ کے ظاہر بھی ہو گئی۔بہر حال اس کے اپنے ساتھیوں سمیت جانے کے بعد مسلمانوں کی تعداد صرف سات سو رہ گئی تھی۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین صفحه 487) اس کے باوجو د جب جنگ ہوئی ہے تو اس میں مسلمانوں کا پلڑا بھاری تھا۔تقریباً فتح ہو گئی تھی لیکن آخر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر پوری طرح عمل نہ کرنے کی وجہ سے اور دڑہ چھوڑنے کی وجہ سے مسلمانوں کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔اس صورتِ حال کے بعد عبد اللہ بن ابی بن سلول کا جو رویہ تھا کس طرح کا تھا اور کس کس طرح اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے بارے میں تکلیف دہ اور استہزا کی باتیں کرنی شروع کر دیں۔اس کی کچھ تفصیل اب میں بیان کروں گا۔اس میں حضرت عبد اللہ کی اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بھی ظاہر ہوتی ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کے لیے اپنے باپ کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے میں کوئی امر مانع نہ تھا اگر وہ اسلام کی عزت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملے کرتا۔اس بارے میں سیرت خاتم النبیین میں شروع کا جو ذکر ہے کہ کس طرح ان لوگوں نے تمسخر اڑانا شروع کیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ غزوہ احد کے بعد مدینے کے یہود اور منافقین جو جنگ بدر کے نتیجے میں کچھ مرعوب ہو گئے تھے اب کچھ دلیر ہو گئے بلکہ عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے تو کھلم کھلا تمسخر