خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 586 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 586

خطبات مسرور جلد 17 586 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 نومبر 2019 مہینے پھل کاٹ کے بازار فروخت کرتا ہوں اور اس سے جو رقم ملتی ہے وہ ساری چندے میں ادا کر دیتا ہوں۔پھر انڈونیشیا کے امیر صاحب ہی لکھتے ہیں کہ ایک جماعت پاسر پنگار ایاں (Pasir Pangaraian) کے ایک نو مبائع ہیں۔کچھ عرصہ قبل انہوں نے بیعت کی تھی۔بیوی کی طرف سے شدید مخالفت ہے لیکن موصوف ثابت قدم ہیں۔جب تحریک جدید کے نئے سال کا آغاز ہوا تو ہمارے مبلغ نے ان کو تحریک جدید کے مالی جہاد میں شامل ہونے کی تحریک کی۔اس پر موصوف نے پانچ لاکھ انڈو نیشین روپیہ ادا کرنے کا وعدہ کیا۔انڈو نیشین روپے کی ویلیو (value) بہت تھوڑی ہے لیکن بہر حال ان کے لیے تو بہت زیادہ رقم تھی۔ایک آنریری ٹیچر ہیں جس کی تنخواہ بہت کم ہوتی ہے۔ہمارے مبلغ نے ان سے دوبارہ پوچھا کہ اتنی رقم آپ نے لکھوا دی ہے ، ادا کر سکیں گے ؟ کسی مشکل میں نہ پڑ جائیں۔اس پر انہوں نے بڑے یقین سے کہا کہ یہی میر اوعدہ ہے۔چنانچہ رمضان کے مہینے میں جب ان کو سو فیصد ادائیگی کی تلقین کی گئی تو یہ ان دنوں کی بات ہے کہ انہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ایک دن ان کے کسی رشتہ دار نے ان کو تحفہ ایک لفافے میں کچھ رقم دی تو انہوں نے اس لفافے کو کھولا نہیں بلکہ فور أصدر جماعت کے گھر آکر کہا کہ اس لفافے میں جو کچھ بھی ہو میں تحریک جدید کے لیے دیتا ہوں۔صدر جماعت نے جب اس لفافہ کو کھولا تو دیکھا کہ اس میں عین پانچ لاکھ انڈو نیشین روپے کی رقم تھی جو انہوں نے اسی وقت اپنے وعدے کے مطابق ادا کر دی۔پھر بچوں میں اخلاص اور قربانی کی اہمیت کا جو احساس ہے یہ انقلاب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں نظر آتا ہے جو آپ نے پیدا فرمایا۔گھانا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے جماعت میں مالی قربانی خصوصاً تحریک جدید کے بارے میں خطبہ دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ہمیں بچوں کو بھی قربانی کی عادت ڈالنی چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھ سے چندہ دیں۔اس پر اگلے جمعہ کو نماز جمعہ پر ایک طفل جس کی عمر تقریبا نو دس سال ہو گی کچھ رقم لے کر آیا اور تحریک جدید کی مد میں پیش کر دی اور پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میں نے والدین سے چندے کے لیے ر قم مانگی جو کسی وجہ سے مجھے مل نہیں سکی، نہیں ہوگی والدین کے پاس۔کہتے ہیں میں نے اس پر ایک دوکان پر مزدوری کرنی شروع کر دی اور جور قم حاصل کی وہ چندے میں دے رہا ہوں۔پھر سیر الیون کی ایک مثال ہے۔وہاں کینما کے لوکل معلم بشیر و صاحب لکھتے ہیں کہ ایک جماعت سیر ابو Serabu) میں جب احباب جماعت کو چندہ تحریک جدید کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی گئی تو اسی دوران ایک بچہ نو یا دس سال کی عمر کا ہو گا اور میں نے دیکھا کہ وہ سر پر آگ جلانے والی کچھ لکڑیوں کا گٹھا لے کر آیا اور اس نے معلم صاحب سے کہا کہ یہ لکڑیاں آپ مجھ سے خرید لیں اور جتنے پیسے ہوں وہ چندے میں ڈال لیں۔معلم صاحب نے وہ لکڑیاں اس بچے سے خرید لیں اور چندے کی رسید کاٹ دی۔بعد میں وہ لکڑیاں بھی واپس کر دیں کہ تمہارا چندہ آگیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے مال اور ایمان میں بہت برکت عطا فرمائے۔اس طرح قربانی کا تصور یہاں کے بچوں میں نہیں ہو گا کہ محنت کر کے ، مزدوری کر کے یا جنگل جا کے لکڑیاں کاٹ کر پھر چندہ ادا کریں۔یہاں حالات اچھے ہیں۔بے شک یہاں بھی بڑی اچھی مثالیں ہیں۔بعض بچے ایسے ہیں جنہوں نے اپنے جیب خرچ کی پوری رقم دے دی۔کوئی خاص چیز خریدنی تھی اس کے لیے رقم جمع کی تھی تو وہ قربانی کر دی۔بہر حال اپنے اپنے ماحول میں ہر