خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 585
خطبات مسرور جلد 17 585 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08نومبر 2019 خریدنے کے لیے بھی ایک مناسب رقم جمع ہو گئی۔چنانچہ میں نے بخار اواپس آکر اپنی گاڑی خرید لی اور اس پہلی گاڑی سے بھی اچھی خریدی ہے جو فلیٹ خریدنے کے لیے مجھے فروخت کرنی پڑی تھی اور کہتے ہیں کہ یہ صرف چندے کی برکت کا نتیجہ ہے ورنہ اتنی بڑی رقم جمع کرنا میرے لیے ناممکن تھا اور کچھ عرصہ پہلے اس نے بیعت کی تھی، کہتے ہیں میرے ایمان میں بھی اضافہ کیا۔گنی بساؤ کے مبلغ کہتے ہیں کہ ایک صاحب ہیں اور جو باوجود پیدائشی احمدی ہونے کے اور باوجو د بار بار کی تلقین کے تحریک جدید میں حصہ نہیں لیتے تھے۔انہوں نے بلا کس بنانے کا کاروبار شروع کیا اور سیمنٹ کی چالیس بوریوں سے انہوں نے بلا کس بنائے۔رات کو بارش ہوئی، سارے بلا کس خراب ہو گئے اور مکمل نقصان ہو گیا۔کہتے ہیں رات کو بڑا پریشانی کے عالم میں سویا تو خواب میں میں نے دیکھا کہ میرے مرحوم والد آئے ہیں تو ان کو کہتے ہیں کیا تم نے اپنے چندہ جات ادا کر دیے ہیں؟ یہ کہنے کے بعد وہ چلے گئے۔چنانچہ اور میں صاحب کہتے ہیں کہ صبح اٹھتے ہی میں مشن ہاؤس آیا اور وہاں مشنری کو کہنے لگے کہ آپ نے چندہ تحریک جدید کی تلقین کی تھی۔میرے پاس ابھی صرف دو ہزار فرانک ہیں جو میں ابھی ادا کرنا چاہتا ہوں اور چندہ ادا کرنے کے بعد اگلے ہی دن اللہ تعالیٰ نے ان کا جو نقصان ہوا تھا اُسے اس طرح پورا کیا کہ ان کو نیا contract مل گیا جو آٹھ لاکھ سیفے کا تھا اور ان کے قرضے بھی اتر گئے اور اللہ کے فضل سے انہوں نے اب وصیت بھی کر لی ہے اور ان کے ایمان میں بھی اضافہ ہوا۔مایوٹ آئی لینڈ کے ایک دوست علی محمد صاحب ہیں۔ان کے پاس کوئی مستقل کام نہیں تھا لیکن کہتے ہیں جب سے میں نے تحریک جدید کا چندہ ادا کیا ہے مجھے کام ڈھونڈنے میں کوئی دقت نہیں رہی۔ایک کام ختم ہوتا ہے دوسر امل جاتا ہے اور چندے کی ادائیگی کے بعد اب تک مسلسل کام مل رہا ہے۔یہ نئی جماعت ہے جو چند سال ہوئے قائم ہوئی ہے لیکن ایمان اور اخلاص میں بڑی بڑھنے والی جماعت ہے۔پھر امیر صاحب انڈونیشیا لکھتے ہیں کہ ایک جماعت پگنتان (Pagentan) میں ایک احمدی اور یانو (Waryono) صاحب ہیں جو اکیلے رہتے ہیں ان کی بیوی فوت ہو چکی ہے۔انہوں نے چندہ دینے کے لیے کیسے کیسے طریقے اختیار کیے ہوئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔بڑا اخلاص و وفا ان لوگوں میں ہے۔کہتے ہیں کھیتی باڑی کرتے ہیں، غریب آدمی ہیں۔بچوں کی شادیاں ہو چکی ہیں۔بیوی ہے نہیں۔تبلیغ تربیت کے کام میں اکثر مبلغ کا ساتھ دیتے ہیں۔چھوٹا سا ایک کھیت ان کے پاس ہے اور کسانوں کی آمد تو چند مہینوں بعد ہی ہوتی ہے ، ہر تین یا چار مہینے کے بعد آمد ہوتی ہے لیکن اس کھیت کی جو آمد ہے وہ چندہ با قاعدگی سے ہر مہینے ادا کرتے ہیں۔ایک دفعہ مبلغ نے انہیں پوچھا کہ آپ کی فصل تو تین چار مہینے کے بعد ہوتی ہے لیکن چندہ آپ باقاعد گی سے ادا کرتے ہیں تو اس پر انہوں نے بتایا کہ میں نے بھی باقاعدگی سے چندہ دینے کا ایک طریقہ اختیار کیا ہوا ہے۔میں نے اپنے کھیت کا ایک حصہ مختص کر کے اس پر صرف کیلے کے درخت لگائے ہوئے ہیں اور اس طریقے سے لگائے ہوئے ہیں کہ ایک درخت لگانے کے کچھ عرصے بعد دوسر الگایا یعنی کچھ حصہ لگانے کے بعد کچھ دوسرا حصہ لگایا۔پھر کچھ عرصے کے بعد تیسر ا حصہ لگایا۔کیلے کے جو درخت ہیں وہ کیونکہ سارا سال ہی پھل دیتے ہیں تو وہ اس طرح ہر مہینے پھل دیتے رہتے ہیں اور میں ہر