خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 584 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 584

584 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 نومبر 2019 خطبات مسرور جلد 17 ہیں اور ان کی اہلیہ سلائی کا کام کرتی ہیں۔دونوں میاں بیوی نے یہ اصول بنایا ہوا ہے کہ اپنی آمد کے تین حصے کرتے ہیں جس میں سے ایک بچوں کے لیے، ایک حصہ گھر کے لیے اور ایک بصورت چندہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کے لیے مختص کر رکھا ہے۔اس طرح دونوں میاں بیوی پر سکون اور مطمئن ہیں اور گھر یلوزندگی بھی خوش حال گزر رہی ہے۔زائر صاحب کہتے ہیں کہ جب سے انہوں نے چندہ جات میں حصہ لینا شروع کیا ہے اللہ تعالیٰ نے خاص برکت عطا فرمائی ہے اور ان کی آمد میں اتنی برکت پڑی ہے کہ پچھلے سالوں میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔پھر رشیا سے ہی مبلغ انچار ج لکھتے ہیں۔ماسکو کے رسلان صاحب ہیں شیف کے طور پر کام کرتے ہیں۔کچھ عرصہ قبل انہوں نے گھر بنانے کے لیے ایک بہت بڑی رقم قرض کے طور پر حاصل کی اور بڑی عرصے سے دو گنا کام کر کے قرض اتارنے کی کوشش کر رہے تھے۔ایک دن ان کا فون آیا کہ میں اب فوری طور پر آپ کو چندہ بھیجنا چاہتا ہوں۔دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ جس جگہ وہ پہلے کام کرتے تھے وہاں ان کی جو مز دوری تھی، اجرت تھی اس میں سے ان کی ایک بڑی رقم مالک کے پاس پھنسی ہوئی تھی اور اس حوالے سے دعا کے لیے بھی انہوں نے لکھا تھا تو اللہ تعالیٰ نے وہ ڈوبی ہوئی رقم محض اپنے فضل سے واپس دلوائی ہے۔کہتے ہیں اس پر میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ میں جتنی جلدی ہو سکے چندہ ادا کروں اور پھر اسی وقت انہوں نے چندے کے لیے اپنے حالات کے اعتبار سے ایک بڑی رقم مربی صاحب کو بھجوادی۔جرمنی کی جماعت سے ایک بچی ہے وہ لکھتی ہیں کہ میں دوماہ سے حاملہ تھی۔اب ان کا بچہ پیدا بھی ہو گیا اور دوسال کا بھی ہو گیا اور کہتی ہیں جب میں حاملہ تھی اس وقت میں نے دعا کی، بہت دعا کی اور میں نے وعدہ کیا کہ ہر ماہ تحریک جدید میں سویور و دوں گی۔باقی سات ماہ اللہ تعالیٰ نے خیریت سے گزار دیے۔کوئی پیچید گیاں تھیں وہ دور و گئیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بیٹے سے نوازا اور کہتی ہیں اب بھی میں اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ ہر ماہ ہو تحریک جدید میں چندہ ادا کر کے پورا کر رہی ہوں۔دنیا کے اس حصے میں جو مادیت میں ڈوبا ہوا ہے اور خدا سے دوری پید اہو رہی ہے یہاں اللہ تعالیٰ احمد یوں کو اپنے فضلوں سے نواز کر جہاں اپنے وجود کا پتا دیتا ہے وہاں احمدیت کی حقیقت اور سچائی بھی ان پر ظاہر ہورہی ہے۔لٹویا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ لٹویا کے ایک احمدی وحید وف صاحب ہیں ان کا تعلق بھی ازبکستان کے صوبہ بخارا سے ہے۔چند سال قبل ان کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص و وفا ان کا بڑھتا چلا جارہا ہے۔ان کے اہل خانہ سے نیک سلوک کو دیکھ کر گذشتہ برس ان کی اہلیہ بھی بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئیں۔کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے فون پر چندے کی ادائیگی کے حوالے سے بتایا۔کہتے ہیں چھ ماہ ازبکستان میں کام کرتا ہوں اور چھ ماہ رشیا جا کر کام کرتا ہوں۔اس سال بخارا شہر میں ایک فلیٹ خریدا تھا جس کے لیے مجھے اپنی گاڑی فروخت کرنا پڑی۔کہتے ہیں جب میں کام کرنے رشیا گیا تو میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ سے ایک سودا کرنا چاہیے۔چنانچہ میں نے اس نیت سے چندہ دینا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے چندے کی برکت سے گاڑی خریدنے کی توفیق عطا فرمائے۔چندہ ادا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے میرے کام میں اتنی برکت دی کہ میرے پاس گھر یلو ضروریات کے علاوہ گاڑی