خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 43
خطبات مسرور جلد 17 43 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2019 کی یہاں تک کہ شہید کر دئے گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ آگے بڑھ گئے تا کہ مر جائیں یعنی موت کے سامنے چلے گئے حالانکہ وہ اسے جانتے تھے۔الطبقات الكبرى جلد 2 صفحه 39-40 سرية المنذر بن عَمْرو مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) باوجود جنگ کا سامان پورا نہ ہونے کے بڑی بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا اور جنگ کی نیت سے گئے بھی نہیں تھے۔پھر ذکر ہے حضرت سُلَيْم بن قَيْس اَنْصارِی کا۔ان کی والدہ کا نام اُم سُليم بنت خالد تھا۔حضرت خولہ بنت قیس کے بھائی تھے جو حضرت حمزہ کی بیوی تھیں۔آپ نے غزوہ بدر اور احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی۔ان کی وفات حضرت عثمان کے دور خلافت میں ہوئی۔(اسد الغابه جلد 2صفحه 45-546 سُليم بن قيس انْصارِى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 372 سُلَيْم بن قَيْش مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر ایک صحابی حضرت ثابت بن تغلبہ تھے۔ان کا نام حضرت ثابت بن تغلبہ تھا اور ان کی والدہ کا نام اُم اناس بنت سغد تھا جن کا تعلق قبیلہ بنو عُذرہ سے تھا۔آپ کے والد تغلبه بن زید کو الجذع کہا جاتا تھا۔ان کا یہ نام ان کی بہادری اور مضبوط عزم و ہمت ہونے کی وجہ سے رکھا گیا تھا۔اسی مناسبت سے حضرت ثابت کو ابن الجذع کہا جاتا ہے۔حضرت ثابت بن تغلبہ کی اولاد میں عبد اللہ اور حارث شامل ہیں۔ان سب کی والدہ امامہ بنت عثمان تھیں۔حضرت ثابت ستر انصار صحابہ کے ہمراہ بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے۔غزوہ بدر اور غزوہ احد اور غزوہ خندق اور صلح حدیبیہ اور غزوہ خیبر اور فتح مکہ اور غزوہ طائف میں بھی شامل تھے۔آپ نے غزوہ طائف کے روز ہی جام شہادت نوش کیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 428-429 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر ایک صحابی حضرت سماك بن سعد ہیں۔ان کے والد سعد بن تغلبہ تھے۔آپ حضرت نعمان بن بشیر کے والد حضرت بشیر بن سعد کے بھائی تھے۔بدر میں اپنے بھائی حضرت بشیر کے ساتھ شریک ہوئے اور احد میں بھی شریک ہوئے تھے۔ان کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 552 سماك بن سعد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر ایک صحابی ہیں ان کا نام جابر بن عبدالله بن رتاب ہے۔حضرت جابر کا شمار ان چھ انصار میں کیا جاتا ہے جو سب سے پہلے مکہ میں اسلام لائے۔حضرت جابر بدر اور احد اور خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل تھے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 431 جابر بن عبد الله مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) بیعت عقبہ اولیٰ سے قبل انصار کے چند لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ میں ملاقات ہوئی جن کی تعداد چھ تھی۔وہ چھ اصحاب یہ تھے اسعد بن زرارہ۔عوف بن حارث رافع بن مالك بن عجلان اور قُطْبَه بن عَامِرِ بن حَدِيدَة اور عُقبہ بن عامر بن نابی اور جابر بن عبدالله بن رتاب۔یہ سب لوگ