خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 579 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 579

خطبات مسرور جلد 17 579 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 نومبر 2019 نیٹ پھینکا تو ایک گھنٹے کے اندر اندر اللہ تعالیٰ نے 73 کلو مچھلی سے میرا نیٹ بھر دیا اور دوسرے مچھیرے جو ساتھ تھے انہوں نے بھی دیکھا اور کہا کہ تم بڑے خوش قسمت ہو کہ ایک گھنٹے کے اندر تمہیں اتنی مچھلی مل گئی ہے کہ ساری رات میں ہمیں اتنی مچھلی نہیں ملتی۔تو کہتے ہیں اس وقت میں نے یہی سوچا اور بتایا کہ یہ تحریک جدید کے چندے کی برکت ہے جو ابھی ایک گھنٹہ پہلے میں نے ادا کیا تھا اور جتنی رقم تھی سب کچھ دے دیا تھا۔اس پر وہ پھر دوبارہ مشن ہاؤس آئے کیونکہ آمد زیادہ ہو چکی تھی اور پھر دوبارہ انہوں نے چندہ دیا۔غریب ہیں تو ان کے دل بھی بڑے کھلے ہیں۔اللہ تعالیٰ جب نوازتا ہے تو دل بند نہیں ہو جاتے، ہاتھ بند نہیں ہو جاتے بلکہ پھر بھی وہ ادا کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اور نوازے۔پھر کانگو سے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ریجن بندوندو کی جماعت کے مقامی معلم نے افراد جماعت کو تحریک جدید کے حوالے سے تحریک کی اور میں نے جماعتوں کو یہ کہا ہوا ہے کہ کوشش کریں کہ شامل ہونے والوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ بڑھائیں۔تو میری یہ بات جب انہیں بتائی اس وقت گاؤں والوں کے پاس چندے دینے کے لیے کوئی رقم نہیں تھی۔غریب لوگ تھے۔چھوٹا سا گاؤں تھا۔اس پر مقامی لوگوں نے کہا کہ چندہ تو دینا ہے۔وہ جنگل میں گئے ، لکڑی کائی، پھر اس کا کو ئلہ بنایا۔وہاں پر گاؤں میں تو کوئی خریدار نہیں تھا۔کانگو میں دریا بہت ہیں اور پانی کے ذریعے اکثر سفر ہوتا ہے۔تو اس کو ملے کی بوریاں لے کر کشتی کا ایک مشکل سفر کیا اور پھر ایک شہر میں لے کے آئے اور پھر اسے فروخت کیا اور اس فروخت سے ان کو چھیانوے ہزار فرانک جو ملے وہ اجتماعی طور پر گاؤں والوں نے تحریک جدید میں ادا کر دیے۔پس عجیب قسم کے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں جن کے بارے میں آپ نے اپنی زندگی میں بھی فرمایا کہ نمونے دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح یہ لوگ قربانیاں کرتے ہیں۔(ماخوذ از ضمیمہ رسالہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 313۔حاشیہ ) تحریک جدید کے آغاز میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ غریب لوگوں کی قربانی کے جو معیار بیان فرماتے تھے کہ کسی کے پاس انڈے ہیں تو وہ عورت انڈے لے آئی، کسی کے پاس تھوڑے سے پیسے ہیں تو وہ لے آیا، وہ آج بھی ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی توجہ لینے کے لیے لوگ لِوَجْهِ الله خرچ کرتے ہیں۔گنی بساؤ کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ہمارے ملک کے ایک دور دراز علاقے کبو کرے (Cabucare) کی ایک احمدی خاتون ہیں۔پچاس سال ان کی عمر ہے۔کافی غریب ہیں۔کوئی بھی ذریعہ آمد ان کے پاس نہیں۔اور کہتے ہیں کچھ عرصہ پہلے لوگوں کو تحریک جدید کے چندے کی تلقین کی گئی۔انہوں نے نیت کی کہ اور تو کچھ میرے پاس ہے نہیں۔ایک چھوٹی مرغی ہے اس کو پال کے بڑا کروں گی اور اس کو بیچ کے اپنا چندہ تحریک جدید ادا کروں گی۔کچھ عرصہ گزرنے کے بعد وہاں مرغیوں میں وبا پھیلی اور ان کی مرغی بھی ایک دن بیمار ہو گئی۔رشتہ داروں نے، گھر والوں نے کہا کہ اس مرغی نے مر جانا ہے۔اس کو ذبح کر لو۔انہوں نے کہا نہیں۔اس کو میں نے ذبح نہیں کرنا۔انہوں نے دعا کی کہ یا اللہ ! میرے پاس تو اور کچھ ہے نہیں سوائے اس مرغی کے۔تُو ہی ہے مدد کر اور اس کو بچالے۔کہتی ہیں اگلے دن اٹھی تو وہ مرغی صحت مند تھی۔بڑی ہوئی اور انہوں نے جا کے وہ ہیں دنوں کے بعد پھر معلم کو