خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 580 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 580

خطبات مسرور جلد 17 580 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 نومبر 2019 دے دی کہ میری یہ مرغی چندہ ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں نشان نظر نہیں آتے اگر دیکھنے ہوں، اللہ تعالیٰ سے صحیح تعلق ہو اور نیت نیک ہو تو اللہ تعالیٰ نشان بھی دکھاتا ہے اور یہ چھوٹے چھوٹے نشان ہی ہیں جو ان لوگوں کے از دیاد ایمان کا باعث بنتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس طرح بھی ان لوگوں کے ایمان کو بڑھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے سلوک کی ایک اور مثال یہ ہے: تنزانیہ مارا (Mara) ریجن کے معلم کہتے ہیں کہ ایک مخلص احمدی نوجوان راشد حسین صاحب کی راشن وغیرہ کی چھوٹی سی دکان ہے۔وعدے کے مطابق انہوں نے اپنا مکمل چندہ تحریک جدید ادا کر دیا تھا اور جب سال کے اختتام پر معلم نے مزید تحریک کی کہ جو دینا چاہیں وہ دے سکتے ہیں تو وہ تو اس زمرے میں نہیں آتے تھے کیونکہ ان دنوں میں ان کی مالی حالت تنگ تھی اور دکان پر صرف ایک ایسا سامان رہ گیا تھا جس کے جلدی بک جانے کی بھی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی۔بہر حال کہتے ہیں کہ میرے پاس صرف تین ہزار شلنگ تھے جو انہوں نے دے دیے اور اسی شام کو وہ دوبارہ معلم کے پاس آئے۔کہتے ہیں کہ میرے ساتھ عجیب واقعہ پیش آیا کہ باوجود اس کے کہ میرے پاس اس رقم کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا جو میں نے چندے میں دے دی تھی اور سامان بھی میری دکان پہ ایسا موجود تھا کہ بڑی فکر تھی کہ اس سامان کو تو لوگ خریدیں گے نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے چندے کی برکت سے میری غیر معمولی طریق پر ایک عجیب مدد فرمائی کہ دو پہر میں ہی میرے پاس ایک گاہک آیا جس نے سامان خریدا اور وہ سارا سامان جس کو میں سمجھتا تھا کہ فوری بک نہیں سکتا وہ خریدا اور تیس ہزار شلنگ سامان کے بیچنے کے بعد میرے پاس جمع ہو گئے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے تو یہی ہے کہ چندے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے یہ سب رزق عطا فرمایا۔پھر سنٹرل افریقہ کے شہر بانگی کے ایک صاحب آرجانا صاحب ہیں۔ان کا بھی واقعہ ہے۔اس میں دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ ایمان مضبوط کرنے کے لیے کس کس طرح نوازتا ہے۔یہ تو احمدی ہیں اور کہتے ہیں کہ احمدیت قبول کیسے مجھے آٹھ مہینے ہوئے تھے اور اس آٹھ مہینے میں میرے اندر بڑی تبدیلی پیدا ہوئی۔ایم۔ٹی۔اے بھی مستقل دیکھتا تھا اور ایم۔ٹی۔اے پر خطبہ جمعہ بھی میں سنتا تھا۔کہتے ہیں میں نے جب آپ کا خطبہ سنا اور میر ا معمول تھا کہ میں خطبہ سنا کرتا تھا۔کہتے ہیں ایک دن میں نے جب خطبے میں یہ الفاظ سنے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا غریب نہیں ہو تا اور اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت ڈالتا ہے۔اس وقت تحریک جدید کی وصولی کے بارے میں مبلغ بھی تحریک کر رہے تھے تو میں نے کہا میں بھی دیکھتا ہوں۔میری جیب میں اس وقت صرف پانچ سو فرانک تھے۔بہت تھوڑی رقم تھی۔میں نے وہ دے دیے اور فکر میرا یہ تھا کہ رات کو کیا کھاؤں گا۔پھر کہتے ہیں مجھے خلیفة المسیح کی یہ بات یاد آگئی کہ خدا بڑھا کر دیتا ہے۔تو میں نے تو وہ پانچ سو فرانک دے دیے تھے۔یہ نومبائع تھے۔ایمان میں کمزوری بھی تھی۔مطلب ہے کہ اس طرح کامل ایمان ابھی نہیں ہوا تھا لیکن بہر حال تبدیلیاں پید اہو رہی تھیں۔نیت نیک تھی۔کہتے ہیں کہ میں اس وقت تین چار گھنٹے کے لیے اس امید پر مشن ہاؤس میں رُک گیا کہ اب دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کیسا نظارہ دکھاتا ہے تو اسی دوران ایک رشتے دار کا ٹیلی فون آیا کہ میرے پاس ہیرے ہیں جو میں نے تمہارے شہر میں آکر فروخت کرنے ہیں اور میری یہاں واقفیت نہیں ہے تو میں چاہتا ہوں کہ تم میری مدد کرو۔