خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 578
خطبات مسرور جلد 17 578 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 نومبر 2019 قربانیوں کے نظارے ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت سے دیکھ رہے ہیں، واقعات پڑھتے ہیں اور آج بھی ہمیں نظر آتے ہیں۔یہ کوئی پرانی باتیں نہیں ہیں کہ باوجود نامساعد حالات کے احمدی کیسی کیسی قربانیاں اللہ تعالیٰ کی توجہ چاہنے کے لیے، اس کی رضا چاہنے کے لیے کرتے ہیں۔آج خطبے میں تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان بھی ہونا ہے اس لیے اس حوالے سے میں کچھ واقعات پیش کروں گا۔سیر الیون سے لونسور (Lunsar) ریجن کے ایک مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک نو مبائع کمارا صاحب ہیں ان کو تحریک جدید کا تعارف اور چندوں کی برکات کے بارے میں جب بتایا گیا تو اس نو مبائع نے چندہ عام کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ تحریک جدید کا چندہ بھی ادا کر دیا۔ان کے پاس تھوڑی سی رقم بیچی جس سے وہ غریب آدمی تھے) مہینے کے لیے چاول خرید سکتے تھے لیکن انہوں نے یہ رقم بھی تحریک جدید کے چندے میں دے دی۔کہتے ہیں کہ چند دن کے بعد ہی وہ صاحب پھر آئے اور بتایا کہ جس دن میں نے تحریک جدید کا چندہ ادا کیا تھا اس سے اگلے دن کمپنی نے کہا کہ ہم نے تمہارا ڈیپارٹمنٹ تبدیل کر دیا ہے اور نئے ڈیپارٹمنٹ میں تنخواہ بھی دوگنی ہو گئی ہے اور دوسرے benifits بھی بہت زیادہ ہیں۔چندے کی وجہ سے برکات ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فضل فرماتا ہے تو کہتے ہیں کہ جن برکات کا میں نے ذکر سنا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے ان برکات کی جھلک دکھا دی اور پھر کہتے ہیں کہ آئندہ میں ہر ماہ چندہ عام کے ساتھ تحریک جدید کا چندہ بھی دیا کروں گا۔پھر سیر الیون کے ریجن پورٹ لوکو (Port Loko) کے مبلغ کہتے ہیں۔ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔یہ دیکھیں کہ غربت کے باوجود جو قربانیاں کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں کس طرح نوازتا ہے اور پھر یہ بات ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بھی بنتی ہے۔کہتے ہیں واقعہ یوں ہے کہ ایک گاؤں سانڈا مبلن تورو (SandaMablonotor) ہے۔اس میں محمد صاحب ایک احمدی ہیں۔انہوں نے تحریک جدید کے وعدے میں جو رقم لکھوائی ہوئی تھی اسے ادا نہیں کر سکے۔جب سال کا آخر آیا تو کہنے لگے کہ میرے پاس سوائے چند کپ چاولوں کے کچھ بھی نہیں تھا۔تھوڑے سے چاول تھے۔کلو ڈیڑھ کلو چاول ہوں گے۔انہوں نے چاول فروخت کیے اور اپنا وعدہ پورا کر دیا۔وہ کہتے ہیں کہ اس سے اگلے دن میرے ایک دور کے رشتہ دار نے ایک بوری چاول اور کچھ ر قم بطور تحفہ مجھے بھجوائی اور کہتے ہیں میرا بڑا ایمان مضبوط ہوا کہ میں نے تو چند کپ اللہ کی راہ میں دیے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں مجھے سو کلو بھی دے دیے اور کچھ رقم بھی دے دی۔پھر گنی بساؤ کے مبلغ لکھتے ہیں، اس میں بھی غریبوں کی قربانی کا معیار ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کا ایمان کس طرح تازہ کرتا ہے۔کبوڈو جماعت کے ممبر دیا لو صاحب ہیں۔انہیں جب چندہ تحریک جدید کی اہمیت کا بتایا گیا تو اسی وقت انہوں نے اپنے جیب میں ہاتھ ڈالا اور جیب میں ہزار سیفا کی جو رقم تھی وہ تحریک جدید میں ادا کر دی اور کہنے لگے کہ اس رقم سے میں اپنے بچوں کے لیے کھانے کی چیزیں لینے کے لیے بازار جار ہا تھا اور چندہ دینے کے بعد دوبارہ گھر گئے۔گھر میں اب پیسے تو تھے نہیں۔مچھلی پکڑتے تھے تو انہوں نے فشنگ کا سامان لیا اور فشنگ کے لیے چلے گئے تاکہ بچوں کے کھانے کے لیے کچھ سامان کر سکیں۔نیٹ سے فشنگ کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ میں نے فشنگ کے لیے