خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 577
خطبات مسرور جلد 17 577 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 نومبر 2019 میں پھینک کے ضائع کر دیا لیکن عقل مند جانتا ہے کہ یہ دانے جو زمین میں پھینکے گئے ہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں کروڑوں دانے بھی بن کر نکل سکتے ہیں سوائے اس کے کہ وہ فصل آفت کا شکار ہو جائے اور اسے کچھ نہ ملے۔پس اللہ تعالیٰ کی راہ میں نیک نیتی سے خرچ کیا ہوا اور پاک مال میں سے جو خرچ کیا جاتا ہے وہ ہزاروں گنا بڑھ کر بھی مل سکتا ہے اور ملتا ہے۔احمدی اپنے تجربات لکھتے رہتے ہیں، اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ کس طرح ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کی اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑھا کر عطا کیا۔کچھ کمزور ایمان والے بھی ہوتے ہیں، نئے آنے والے بھی ہوتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں اور تجربہ کرتے ہیں کہ دیکھیں کہاں تک یہ بات درست ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑھا کر دیتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے ان کو نو از تا بھی ہے لیکن اکثریت ایسی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاء وَجْهِ الله اور جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ کی توجہ چاہنے کے لیے خرچ کرتے ہو۔وہ دین کی ضروریات کے لیے خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی توجہ چاہنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حقیقی مومن کی تعریف ہی یہ کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توجہ چاہنے کے لیے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور یقینا اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی حالتوں کو جانتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے خرچ کرتے ہیں اور پھر ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو بھی دیکھ لیتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان کی قربانی کو قبول کرتے ہوئے انہیں واپس لوٹاتا ہے اور پھر یہ بات انہیں مزید ایمان میں بڑھاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ادھار نہیں رکھتا۔تم میری توجہ چاہنے کے لیے اپنے پاک مال میں سے میرے دین کے لیے اور میرے کہنے پر خرچ کرتے ہو تو میں بھی تمہیں لوٹاؤں گا۔شرط یہ ہے کہ مال پاک ہو۔پس ان ممالک میں، ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے بعض خاص طور پر اس بات کا خیال رکھیں کہ پاک مال کمائیں۔زیادہ کمانے کے لیے حکومت کے اداروں کو دھوکا نہ دیں کہ اپنی کمائی بھی کر رہے ہوں اور حکومت سے غلط بیانی کر کے وظیفہ بھی لے رہے ہوں۔ایسے لوگ حکومت سے ناجائز رقم بھی لیتے ہیں۔اپنے ٹیکس جو حکومت کا حق اور شہری کا فرض ہے وہ بھی ادا نہیں کرتے۔دوسرے لوگوں کا حق بھی مارتے ہیں اور وہی رقم جو دوسرے ذریعہ سے ملک کی ترقی میں خرچ ہو سکتی ہے اس میں بھی روک بنتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ غلط بیانی کر کے جھوٹ کے مر تکب ہو رہے ہوتے ہیں اور یہ تمام چیزیں غلط ہیں، گناہ ہیں اور پاک مال سے دور لے جانے والی ہیں۔پھر پاک مال میں دوسرے ذرائع سے غلط طور پر کمایا ہوا مال بھی نہیں ہے۔جن کاموں کی اللہ تعالیٰ نے مناہی کی ہے، ان کاموں کے کرنے سے کمایا ہو امال بھی پاک مال نہیں ہو تا۔تو بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں پاک مال کی قربانی کو جو میری توجہ حاصل کرنے کے لیے کی جائے نہ صرف قبول کرتا ہوں بلکہ يُوَفَّ إِلَيْكُم تمہیں پورا پورا لوٹاتا ہوں۔مختلف ذریعوں سے لوٹاتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔یہ انسان ہی ہے جو مختلف حرکتیں کر کے ، غلط حرکتیں کر کے اللہ تعالیٰ کے حکموں کی نافرمانی کر کے اپنے اوپر ظلم کرتا ہے اور نقصان اٹھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی اس بات کا تجربہ اور اور اک رکھنے والے ہزاروں اور لاکھوں احمدی ہیں۔ان میں سے چند ایک کی کچھ مثالیں میں آج پیش کروں گا۔یہ