خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 576
خطبات مسرور جلد 17 576 45 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 نومبر 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 08 نومبر 2019ء بمطابق 108 نبوت 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن (سرے) یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَهُمْ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِى مَن يَشَاءُ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِانْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (البقره: 273) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ انہیں راہ پر لانا تیرے ذمہ نہیں ہے۔ہاں اللہ جسے چاہتا ہے راہ پر لے آتا ہے اور جو اچھا مال بھی تم خدا کی راہ میں خرچ کرو اور حقیقت یہ ہے کہ تم ایسا خرچ صرف اللہ کی توجہ چاہنے کے لیے کیا کرتے ہو سو اس کا نفع بھی تمہاری اپنی جانوں ہی کو ہو گا اور جو اچھا مال بھی تم خرچ کرو وہ تمہیں پورا پورا واپس کر دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔یہ آیت جیسا کہ اس سے واضح ہے اللہ تعالیٰ نے (اس میں ) یہ واضح فرما دیا کہ ہدایت دینا، صحیح راستے کی طرف لے کر جانا یا اس کو اس راستے پر ڈال دینا جو صحیح سمت جاتا ہے، جو اصل منزل کی طرف جاتا ہے اور پھر اس راستے پر، اس ہدایت اور رہ نمائی پر قائم رکھنا اور منزل تک پہنچانا اور راستہ بھٹکنے سے بچانا اور انجام بخیر کرنا اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر ہی منحصر ہے اور اللہ تعالیٰ کا ہی کام ہے۔ہم کسی کو نیکیوں کا راستہ دکھا تو سکتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ضرور اس راستے پر ڈال بھی دیں اور پھر اس پر قائم بھی رکھیں۔پس یہ کام اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لیا ہے اور جو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا ہے، اس راستے پر چلنے کی کوشش بھی کرتا ہے اور دعا بھی کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے منزل تک بھی پہنچتا ہے۔پس اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہدایت کے بعد اس ہدایت کے راستے پر اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق چلنے کی کوشش بھی کرتے رہیں اور اس سے دعا بھی کرتے رہیں اور اس سے دعا کرتے ہوئے، اس پر قائم رہتے ہوئے اس کے فضل کو بھی مانگتے رہیں تاکہ انجام بخیر ہو اور کبھی ہماری کمزوری ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والے راستے سے بھٹکا نہ دے۔پھر دوسری بات جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمائی وہ یہ ہے کہ تم اچھے مال میں سے جو بھی خرچ کر ووہ تمہارے اپنے فائدے کے لیے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِكُمْ اور جو بھی اچھا مال تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اس کا فائدہ تمہیں ہی ہو گا۔اللہ تعالیٰ ادھار نہیں رکھتا بلکہ بڑھا کر لوٹاتا ہے اس طرح جس طرح ایک کسان کھیت میں بیج ڈالتا ہے تو کوئی جاہل، کم عقل کہہ سکتا ہے کہ یہ اس نے کیا کیا کہ سارا پیچ زمین