خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 575 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 575

خطبات مسرور جلد 17 575 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔علاوہ ازیں اہل قرآن اور اہل حدیث کے ساتھ بھی محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ نے کامیاب مباحثت کرنے کی سعادت پائی۔مرحوم صوم و صلوۃ کے پابند تھے۔چھوٹی عمر میں ہی تہجد پڑھنے کے عادی تھے۔ان کے داماد لکھتے ہیں کہ لڑکپن کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ مرحوم نماز تہجد ادا نہیں کر سکے جس پر ان کے والد صاحب نے کہا کہ بیٹا کیا آپ نہیں چاہتے کہ آپ کو مقام محمود ملے ؟ اس دن سے آپ نے اس وصیت کو پلے باندھ لیا اور عمر بھر اس پر عمل درآمد کیا حتی کہ بیماری اور اشد کمزوری کی حالت میں بھی اس پر قائم رہے۔خلافت کے ساتھ والہانہ محبت اور عقیدت تھی اور اخلاص کا گہرا تعلق تھا۔تعلیمی، تربیتی، تبلیغی نشست میں بڑا حصہ خلافت کے لیے مخصوص ہو تا تھا۔اسی موضوع پر بات کرتے تھے اور اس موضوع پر بات کرتے ہوئے اکثر جذباتی ہو جایا کرتے تھے۔2015ء میں ایک خاتون اپنے بچوں کے ساتھ احمدی ہوئیں ان کے خاوند بیرونِ ملک تھے۔جب وہ آئے تو انہوں نے ان کو تبلیغ کی۔انہوں نے ایک سوال کیا کہ خلافت کو ماننے کی ضرورت کیا ہے ؟ اس پر مرحوم نے منصب خلافت اور خلافت کی اہمیت و برکات کے بارے میں اتنے جذباتی انداز میں باتیں کیں کہ ان کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں جس کا اس غیر از جماعت پر بھی ایسا اثر ہوا کہ باقی باتیں تو ٹھیک تھیں اور اس بات کو سنتے ہی فوراً انہوں نے بھی بیعت کر لی۔حقیقت میں وہ خلافت کے سلطان نصیر تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 22 / نومبر 2019ء جلد 26 شمارہ 73 صفحہ 5 تا10)