خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 574 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 574

خطبات مسرور جلد 17 574 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 ہوئی۔ریڈیو چینل پر رپورٹ آئی اور اس طرح یہ خبر (میڈیا) آؤٹ لٹس کے ذریعہ بھی کئی ملین افراد تک پہنچی۔جرمنی میں ویز بادن اور فلڈا اور برلن اور مہدی آباد کے جو فنکشن ہوئے ہیں ان میں مجموعی جائزے کے مطابق گل تیرہ اخبارات میں ، چار ٹی وی چینلز پر، ایک ریڈیو چینل پر اور الیکٹرانک میڈیا میں بارہ رپورٹس شائع ہوئی ہیں اور رپورٹ دینے والے کے خیال میں جو کہ خارجہ سیکر ٹری ہیں، ان کا خیال ہے کہ تقریباً انچاس (49) ملین تک اس مختلف میڈیا کے ذریعے سے یہ پیغام پہنچا ہے۔اس طرح ریویو آف ریلیجنز نے بھی اپنے ذریعے سے تقریباً ڈیڑھ ملین لوگوں تک پیغام پہنچایا۔اللہ کرے کہ یہ پیغام جیسا کہ پہلے میں نے کہا لوگوں کے سمجھنے کا باعث بھی بنے۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم مولوی محمود احمد صاحب مبلغ سلسله پال 129 گھاٹ ( کیرالہ انڈیا ) کا ہے۔54 سال کی عمر میں 15 / اکتوبر کو ان کی وفات ہوئی تھی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ ان کے خاندان میں احمدیت ان کے والد مکرم مولوی محمد علوی صاحب کے ذریعہ آئی تھی جو کہ غیر احمدیوں کے معروف عالم تھے۔قبول احمدیت کی وجہ سے انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ان کے ذریعہ صوبہ کیرالہ میں سینکڑوں افراد کو قبول احمدیت کی توفیق حاصل ہوئی۔مرحوم مولوی محمود احمد صاحب نے اپنے والد کی نصیحت پر کالج کی تعلیم ترک کر کے جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا تھا اور 1988ء میں جامعہ پاس کیا۔مرحوم ایک بہت بڑے عالم تھے ، متقی تھے، صوم و صلوۃ کے پابند، تہجد گزار ، دعا گو، غریب پرور ، صابر اور شاکر مخلص انسان تھے۔قرآن کریم، حدیث حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اور خلفائے کرام کی کتب کا گہرا مطالعہ تھا۔عربی، اردو، ملیالم اور تامل زبانوں پر بھی کافی عبور تھا۔مرحوم کے پاس اپنی ذاتی لائبریری تھی۔اس میں بے شمار نایاب کتابیں تھیں۔صوبہ کیرالہ ، تامل ناڈو، لکش دیپ اور بیرونِ ملک کویت میں ان کو خدمت کی توفیق ملی۔ایک اچھے مقرر اور مناظر بھی تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر 1994ء میں ان کو محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد اور حافظ مظفر احمد صاحب کے ساتھ جماعت کے ایک شدید مخالف مولوی کے ساتھ مناظرے کی بھی توفیق ملی۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں دو بیویاں اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔دو داماد اللہ تعالیٰ کے فضل سے واقف زندگی ہیں۔ان کے ایک داماد لکھتے ہیں کہ جامعہ کے آخری سال کی چھٹیوں میں اپنے والد صاحب کی ہدایت پر گھر نہیں گئے بلکہ دوماہ خالص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرنے کے لیے وقف کر دیا۔جامعہ کے طلبہ کے لیے اس میں ایک بڑا نمونہ ہے۔ہندوستان کے صوبہ کیرالہ سے احمدیت کو مٹانے کے لیے وہاں کے تمام غیر احمدی مسلمان فرقوں نے متحد ہو کر ایک انجمن بنائی جس کا نام انجمن اشاعت اسلام رکھا۔یہ ایک تنظیم تھی۔اس تنظیم نے کیرالہ کے طول و عرض میں مسلسل جماعت احمدیہ کے خلاف اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات پر اعتراض کرتے ہوئے جلسے منعقد کیے۔اس کے جواب میں جگہ جگہ پر جماعت نے جو جلسے کیسے وہ مرحوم کی ہی قیادت میں ہوئے۔1998ء میں اور 2015ء میں انجمن اشاعت اسلام کے ساتھ جماعت کے تاریخی مناظرے ہوئے جس میں موصوف کو بطور مناظر