خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 573 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 573

خطبات مسرور جلد 17 573 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 گی۔اور جب بھی کوئی اسلام پر اعتراض کرے گا تو میں خلیفہ وقت کے ارشاد کو پیش کرتے ہوئے اسلام کا دفاع کرنے کی کوشش کروں گی۔آپ آج ہم مہمانوں سے ہی مخاطب نہیں ہوئے بلکہ اپنی جماعت کے افراد کو بھی اس طرف توجہ دلائی کہ آپ لوگوں نے مسجد کے بننے کے بعد پہلے سے بڑھ کر انسانیت کی خدمت کرنی ہے۔پھر ایک خاتون ہیں انجلیکا (Angelika) صاحبہ۔کہتی ہیں اس خطاب سے مجھے یہ سبق حاصل ہوا ہے کہ ہمیں اس بارے میں غور کرنا چاہیے کہ ہمارا دوسروں سے روز مرہ کا رویہ کیسا ہے۔ہمیں دوستوں اور غیروں کی مدد کرنی چاہیے۔پھر ایک مہمان کہتے ہیں کہ یہاں آنا بڑا اچھا لگا۔اسلام کے بارے میں بہت سے تحفظات دور ہو گئے اور جس طرح رواداری کا پہلو بیان کیا ہے وہ سب تمام مذاہب کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔پھر ایک مہمان اُلف(UIf) صاحب ہیں جو کنسلٹنٹ آف منسٹر پریذیڈنٹ Consultant of) (Ministerpresident ہیں۔کہتے ہیں کہ خطاب میں جو بات مجھے نہایت عمدہ لگی وہ یہ تھی کہ آپ نے ایسے پہلو بیان کیے جو تمام مذاہب میں اتحاد پیدا کرنے والے ہیں۔میں تو ایک عیسائی چرچ کا ممبر ہوں اور باوجود اس کے کہ ہمارے عبادت کے طریق اور آپ کے مذہب میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کا آپس میں اختلاف ہو گا لیکن پھر بھی امام جماعت نے ایسے پہلو بیان کیے جن کی ہر کوئی تائید کر سکتا ہے۔میرا تو یہ ایمان ہے کہ ہم سب کا ایک ہی خدا ہے۔صرف عبادت کا طریق مختلف ہے۔چلو اتناتو کم از کم قریب آنا شروع ہو گئے۔ایک مہمان ویٹک (Witecke) صاحب تھے وہ کہتے ہیں کہ اپنے خطاب میں عورت کے مقام کو بہت اچھے رنگ میں بیان کیا ہے اور اس سے اسلام میں عورت کا مقام اور معاشرے میں عورت کی تکریم ظاہر ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ان لوگوں کے سینے اسلام کی حقیقی تعلیم کو سمجھنے کے لیے بھی کھل جائیں اور اسے قبول کرنے والے بھی ہوں اور حقیقی توحید کو ماننے والے بھی ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے آنے والے ہوں۔یہی ان کی بقا ہے ورنہ یہ جو ان کا خیال ہے کہ عارضی دنیاوی ترقیاں ان کی بقاہیں تو یہ ان کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں۔میڈیا کے بارے میں بھی کچھ بات بتا دوں کہ ہالینڈ میں دو میڈیا چینلز آر۔ٹی۔وی نن سپیت (Nunspeet) اور یورو ٹائمز میں رپورٹیں نشر ہوئیں۔75 ہزار افراد تک پہنچیں۔بیت العافیت المیرے کی ٹی وی چینل پر رپورٹ نشر ہوئی۔پندرہ لاکھ افراد تک پہنچی۔پہلی 75 ہزار افراد تک تھی۔سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی ہزاروں میں پہنچی۔ہالینڈ کے دوران ان کا خیال ہے کہ میڈیا کے ذریعہ سولہ لاکھ افراد تک پیغام پہنچا جس میں زیادہ تر المیرے مسجد کی کوریج تھی جو ان کے نیشنل ٹی وی نے دی تھی۔فرانس کی نیوز ایجنسی ہے "نیشنل نیوز ایجنسی"۔انہوں نے یونیسکو والے خطاب کے حوالے سے ایک آرٹیکل شائع کیا اور اس آرٹیکل کے آخر میں لکھنے والے نے اس بات پر حیرانی کا ذکر کیا کہ خلیفہ نے احمدیوں کے مظالم پر کوئی بات نہیں کی۔پھر سٹر اس برگ میں مسجد مہدی کے افتتاح کے حوالے سے ڈی۔این۔اے میں خبر شائع