خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 42

42 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2019 خطبات مسرور جلد 17 کے ماموں جبکہ حضرت اُمّ حرام اور حضرت اُمّ سُلیم کے بھائی تھے۔حضرت اُمّ حَرَام حضرت عُبادة بن صامت کی اہلیہ تھیں جبکہ حضرت اُم سُلیم حضرت ابو طلحہ انصاری کی اہلیہ تھیں اور ان کے صاحبزادے حضرت انس بن مالک خادم رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔انہوں نے غزوہ بدر اور احد میں اپنے بھائی حضرت حرام بن ملحان کے ساتھ شرکت کی تھی اور آپ دونوں ہی واقعہ بئر معونہ میں شہید ہوئے۔(اسد الغابه جلد 2صفحه 546 سُلَيْم بن مِلْحَان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء)(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 391 سُلَيْم بن مِلْحَان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے چھتیسویں مہینے صفر میں یعنی صفر کا جو مہینہ ہے اس میں بِثْرِ مَعُونہ کی طرف حضرت مُنْذِر بن عمرو السَّاعِدی کا سر یہ ہوا۔عامر بن جعفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو ہدیہ دینا چاہا جسے آپ نے لینے سے انکار کر دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی۔اس نے اسلام قبول نہ کیا اور نہ ہی اسلام سے دور ہوا۔عامر نے درخواست کی کہ اگر آپ اپنے اصحاب میں سے چند آدمی میرے ہمراہ میری قوم کے پاس بھیج دیں تو امید ہے کہ وہ آپ کی دعوت کو قبول کر لیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ اہل مسجد ان کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچائیں تو اس نے کہا کہ اگر کوئی ان کے سامنے آیا تو میں ان کو پناہ دوں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر نوجوان جو قرآن کریم کے قاری کہلاتے تھے اس کے ساتھ بھجوائے اور حضرت مُنْذِرِ بن عَمْرو السّاعِدِی کو ان پر امیر مقرر کیا۔پہلے بھی یہ واقعہ بیان ہو چکا ہے۔جب یہ لوگ بئر معونہ کے مقام پر پہنچے جو بنی سُلیم کا گھاٹ تھا اور بنی عامر اور بنی سُلیم کی زمین کے درمیان تھا یہ لوگ وہیں اترے، پڑاؤ کیا اور اپنے اونٹ وہیں چھوڑ دئے۔انہوں نے پہلے حضرت حرام بن ملحان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دے کر عامر بن طفیل کے پاس بھیجا۔اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پڑھا ہی نہیں اور حضرت حَرام بن ملحان پر حملہ کر کے شہید کر دیا۔اس کے بعد مسلمانوں کے خلاف اس نے بنی عامر کو بلایا مگر انہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔پھر اس نے قبائل سُلَیم میں عُصَيَّہ اور ذکوان اور دغل کو پکارا۔وہ لوگ اس کے ساتھ روانہ ہو گئے اور اسے اپنار کیس بنالیا۔جب حضرت حرام کے آنے میں دیر ہوئی تو مسلمان ان کے پیچھے آئے۔کچھ دور جا کر ان کا سامنا اس جتھے سے ہوا جو حملہ کرنے کے لئے آرہا تھا۔انہوں نے مسلمانوں کو گھیر لیا۔دشمن تعداد میں بھی زیادہ تھے۔جنگ ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب شہید کر دئے گئے۔مسلمانوں میں حضرت سُلیم بن مِلْحان اور حکم بن گیسان کو جب گھیر لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اے اللہ ! ہمیں سوائے تیرے کوئی ایسا نہیں ملتا جو ہمارا سلام تیرے رسول کو پہنچا دے۔لہذ اتو ہی ہمار اسلام پہنچا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرئیل نے اس کی خبر دی تو آپ نے فرمایا وَ عَلَيْهِمُ السّلام۔ان پر سلامتی ہو۔مُنْذِرِ بن عَمْرو سے ان لوگوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو ہم تمہیں امن دے دیں گے مگر انہوں نے انکار کیا۔وہ حضرت حرام کی جائے شہادت پر آئے۔ان لوگوں سے جنگ