خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 572
خطبات مسرور جلد 17 572 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 پھر پروفیسر کرسٹوف گلٹ مین (Christoph Gultman) صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ پروگرام مجھے بہت پسند آیا اور خطاب سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔بہت سے قرآن کے حوالہ جات میں نے ساتھ ساتھ نوٹ بھی کیے ہیں جن کا تقریر میں ذکر کیا گیا تھا۔اب میں انہیں گھر جا کر ضرور دوبارہ پڑھوں گا۔پھر ایک عیسائی مہمان ہیں، کہتے ہیں کہ اس سے قبل میں نے کبھی بھی یہ نہیں سنا تھا کہ اسلام امن کو اتنی اہمیت دیتا ہے اور امن قائم کرنا چاہتا ہے۔اس بات کی مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ امام جماعت کا خطاب آج مختلف سیاسی پارٹیز کے نمائندگان نے سنا ہے۔اسی طرح یہودی ربائی اور دوسرے مسلمان فرقوں کے لوگ بھی مجھے یہاں نظر آئے۔پھر ایک مہمان بیان کرتے ہیں کہ خطاب میں ہر ایک فرد کو اس کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی کہ کس طرح سے امن قائم کیا جاسکتا ہے۔بہت آسان الفاظ میں واضح کر دیا کہ سب انسانوں کو امن اور پیار سے اکٹھے رہنا چاہیے۔اس کے لیے سب سے ضروری یہ بات ہے کہ ایک دوسرے کا احترام کیا جائے۔یہ بات بھی انہوں نے بیان کی کہ دنیا میں ہر چیز کافی مقدار میں موجود ہے اور سب کے لیے کافی ہے اگر اس کو صحیح طرح استعمال کیا جائے۔پھر ایک مہمان کہتی ہیں کہ آپ نے بہت سی باتوں کی طرف توجہ دلائی۔سب سے پہلے جس بات کا ذکر کیا وہ یہ تھی کہ آج کل کے معاشرے میں مذہب کو اہمیت نہیں دی جاتی اور مذہب کو منفی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔کہتی ہیں کہ یہ بات ہمیں بطور عیسائی بھی محسوس ہوتی ہے۔اس کے علاوہ جو بات مجھے خلیفہ کے خطاب میں بہت اہم لگی وہ تعلیم و تربیت کی اہمیت ہے۔اس حوالے سے تو احمد یہ مسلم جماعت ویسے ہی ایک نمونہ ہے۔کیونکہ جب انسانوں کو علم ہو کہ ان کی مقدس کتاب کیا تعلیم دیتی ہے تو پھر بہت سی مشکلات سے ہم آج بچے رہ سکتے ہیں۔پس یہ آج احمدی نوجوانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ خاص طور پر قرآن کریم کو پڑھیں اور سمجھیں تا کہ ان کو سمجھایا جائے اور یہ لوگ پھر مجبور ہوں گے کہ اس پر غور کریں اور اس کی حکمت کو سمجھیں۔اس تعلیم پر عمل کریں یا اس تعلیم کو ما نہیں۔پھر ایمنسٹی انٹر نیشنل کے ترجمان تھے ، کہتے ہیں کہ جو باتیں کی گئیں، مجھے وہ سن کر دل کو بہت اطمینان محسوس ہوا اور اپنے دوسرے خلیفہ کے حوالے سے انہوں نے تہذیب اور کلچر کی جو تعریف بیان کی تھی، دونوں کا باہمی تعلق بتایا اس سے جدید دور کے اہل دانش انکار نہیں کر سکتے۔کہتے ہیں کہ خلیفہ نے قرآنی آیات کی بڑے احسن رنگ میں وضاحت کی ہے۔یہ وہی آیات ہیں جو اسلام سے متنفر لوگ سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہیں۔پھر ایک خاتون ہیں ناہونڈی(Nahawandi) صاحبہ کہتی ہیں اس خطاب کی یورپ میں وسیع پیمانے پر اشاعت ہونے سے اسلام کے بارے میں پائے جانے والے تحفظات دور ہوں گے اور یک طرفہ طور پر پائے جانے والے منفی تاثرات کا ازالہ ہو سکے گا۔پھر مسجد مہدی آباد کا افتتاح تھا۔اس میں بھی جرمنی کی نیشنل پارلیمنٹ کے ممبر تھے، علاقے کے لارڈ میئر، صوبائی اسمبلی کے ممبر ، صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر، علاقے کے پانچ میئرز، پانچ (ڈسٹر کٹس) پارلیمنٹس کے چیئر مین آئے اور اس تقریب میں تقریباً 170 مہمان شامل ہوئے۔ایک مہمان جو وائس میئر ہیں ، یہ خاتون ہیں، کہتی ہیں کہ میں واپس جاکر ضرور خلیفہ کی باتوں کو پھیلاؤں