خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 571
خطبات مسرور جلد 17 571 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 نے پیغام دیا ہے اس کا ماخذ قرآن تھا اور اپنے موقف کی تائید قرآن اور بانی اسلام کے فرمودات سے کی۔اگر چہ یہ موضوع جدید تھا اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تھا لیکن خلیفہ نے اپنے موقف کو قدیم اسلامی ماخذ سے سپورٹ کر کے ثابت کیا کہ اسلام اور قرآن نے مذہب کی بنیاد روز اول سے ہی انسانی ہمدردی اور امن و سلامتی کی تعلیم پر رکھی ہے۔میرے خیال میں اس خطاب کی وسیع پیمانے پر تشہیر ہونی چاہیے تاکہ مغرب میں اسلام کے بارے میں حقیقی تعلیم سے عام لوگوں کو بھی واقفیت ہو۔پھر نیل این (Niel Annen) صاحب جو وفاقی وزیر مملکت ہیں کہتے ہیں کہ جس وضاحت، تفصیل اور تجزیاتی موازنے کے ساتھ امام جماعت احمدیہ نے اسلام احمدیت اور بحیثیت مجموعی مذہب کا تعارف اور معاشرتی کردار واضح کیا ہے اس کو سمجھنے کے بعد میں محسوس کرتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کا انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانا کسی مذہب یا فرقے کی مدد نہیں بلکہ اجتماعی اور عالمی طور پر انسانی قدروں کے تحفظ کی کوشش ہو گی۔پھر کرسٹوف سٹراک (Christoph Strack) صاحب ہیں، کہتے ہیں میں نے زندگی میں شاید ہی کوئی ایسا پروگرام دیکھا ہو یا اس میں شامل ہوا ہوں کہ جس کو مسلمانوں نے منعقد کیا ہو اور اس کی مجموعی فضا ایسی پر سکون اور اس میں ہونے والی گفتگو اتنی جامع اور مدلل ہو۔مجھے خوشی ہوئی کہ کسی کی نظر تو ظاہری تہذیب اور تمدن اور معاشرتی ترقی کے اندر چھپے ہوئے اختلافات کو دیکھ سکتی ہے۔کہتے ہیں کہ اس میں آپ نے کھل کر انسانیت کے سر پر منڈلانے والی ایٹمی جنگ کے خطرے سے بھی کھلے الفاظ میں خبر دار کیا۔پھر کرسٹن بوشلز (Christine Buchholz) صاحبہ ہیں جو ممبر آف پارلیمنٹ ہیں ، کہتی ہیں کہ امام جماعت احمدیہ نے حالات حاضرہ کی نبض کو بالکل صحیح طور پر محسوس کیا اور چونکہ ان کی تشخیص درست ہے اس لیے ان کے تجویز کردہ علاج میں معاشرتی بد امنی کا دیر پا علاج ہے۔پھر ایک اور خاتون ممبر آف پارلیمنٹ ہیں زاکلین (Zaklin) صاحبہ۔کہتی ہیں کہ امام جماعت احمد یہ نے اپنا موقف تمام زاویوں سے واضح کیا اور کوئی ابہام نہیں رہنے دیا۔کہتی ہیں مجھے اس کے لفظ لفظ سے اتفاق ہے۔ایک پروفیسر ہیر برٹ ہیرے (Prof۔Heribert Hirte) کہتے ہیں کہ آپ لوگوں نے جماعت کو تعلیمی میدان میں نمایاں کر کے جماعت احمدیہ کو دیگر مذہبی جماعتوں سے ممتاز مقام پر کھڑا کر دیا۔جس جماعت کے افراد تعلیم پر اتنی توجہ دیں گے ان کی منزل ہی یہ ہے کہ وہ قیادت کریں نہ کہ اندھی تقلید۔پھر ایک ممبر پارلیمنٹ ایکسل (Axel) صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ اس خطاب کو جاکر دوبارہ پڑھوں گا اور جہاں تک میری رسائی ہو گی اس کو آگے بھی بیان کروں گا۔پھر سبین لیڈگ (Sabine Leidig صاحبہ ہیں۔کہتی ہیں میرا تعلق خود تو کسی مذہب سے بھی نہیں ہے لیکن بحیثیت ایک مذہبی سر براہ امام جماعت احمدیہ نے آنے والی نسل انسانی کے درد کو جس طرح قبل از وقت محسوس کر کے آج کی لیڈر شپ کو خبر دار کیا ہے اس کا میرے دل پر گہرا اثر ہے اور میری خواہش ہے کہ یہ پیغام عام ہو تا کہ انسانوں کا اجتماعی شعور اس بارے میں بیدار ہو سکے اور اگلی نسلوں کی ذمہ داری کا ادراک ہو سکے۔