خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 570
خطبات مسرور جلد 17 570 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 لوگ مخالفت کریں گے۔وہاں جو مہمان آئے تھے ان کے بعض تاثرات ہیں۔ایک مہمان بارالڈ (Harald) صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تقریر میں جو بتایا کہ جو قدرِ مشترک ہے اس پہ ہم سب کو اکٹھے ہونا چاہیے اور اسی کی وجہ سے باہمی یگانگت اور گلوبل امن کی بنیاد پڑے گی اور یہ کہتے ہیں کہ یہ جو طریق بتایا گیا ہے یہ طرز عمل دنیا کے موجودہ حالات میں انتہائی قابل عمل لگتا ہے اور اسی کی اس وقت دنیا کو ضرورت ہے۔پھر کہتے ہیں کہ میں جان چکا ہوں کہ اس سے قبل ہمیں اسلامی تعلیمات کے بارے میں جو تعارف تھا وہ اسلام کی درست تصویر پیش نہیں کرتا۔اس لیے آج کی شام میرے لیے ایک مثبت اور پر امن پیغام لائی ہے۔ایک مہمان جو وہاں کے مقامی سکول کے ٹیچر ہیں کہتے ہیں کہ یہ جو تقریر ہے یہ سکول میں طلبہ کو سنوا کر پوچھنا چاہیے کہ آپ اس سے کیا سمجھے اور آپ کے خیال میں یہ خوب صورت تعلیم کس مذہب کی ہو سکتی ہے ؟ کہتے ہیں کم از کم مجھے تو آپ اس کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ ضرور مہیا کریں تا کہ میں اپنے سکول کے طلباء کے سامنے اس شام کی کیفیات شیئر کر سکوں۔ساتھ والے ایک شہر کے میئر تھے وہ کہتے ہیں کہ امام جماعت احمدیہ نے دو طرفہ تحفظات و تعلقات کا موازنہ بھی پیش کیا اور معاشرے کے طبقات میں موجود باہمی کشمکش کے اسباب بھی کھول کر بتائے اور کھلے لفظوں میں ان عوامل کی نشان دہی بھی کر دی جو معاشرے کا امن برباد کرتے ہیں مگر اس کے باوجو د کسی طبقے یا فرقے یا گروہ کی عزت نفس پر کوئی سخت بات نہیں کی بلکہ اجتماعی انسانی ضمیر اور بین الا قوامی انسانی قدروں کے حوالے سے فوڈ فار تھاٹ (food for thought) کے رنگ میں بات کرتے گئے۔وہاں کی ایک ڈاکٹر کو ہلر (Dr۔Koehler ) ہیں۔کہتی ہیں کہ مجھے اس بات نے بڑا متاثر کیا ہے کہ آپ لوگ کتنے کھلے دل کے ہیں اور یہی وہ خوبی ہے جس کی آپ کے خلیفہ تلقین کر رہے تھے کہ انسانی قدروں کے قیام کے لیے اپنے دلوں کو کھولنا پڑے گا اور تحفظات دور کرنے ہوں گے۔پھر کہتی ہیں کہ میں بھی اپنے ہسپتال میں کوشش کرتی ہوں کہ بین المذاہب ہم آہنگی بڑھے اور لوگوں کی روحانیت سے سکون حاصل ہو۔یہی سکون و امن مجھے آج کی تقریب میں دیکھنے کو ملا ہے۔میں بہت خوش ہوں کہ مجھے یہاں شامل ہونے کا موقع ملا۔پھر برلن میں جس تقریب کا میں نے ذکر کیا تھا یہاں اسلام اینڈ یورپ (Islam and Europe) کے موضوع پر خطاب تھا یا سویلائزیشن (Civilization) اور کلچر کا موازنہ۔اس میں ستائیس 27 ممبران قومی اسمبلی، دفتر خارجہ کے تین نمائندے جن میں مذہب اور سیاست کے ڈائریکٹر ز بھی شامل تھے ، پانچ پر وفیسر جن میں برلن یونیورسٹی کی نائب صدر اور جرمنی میں مشرق وسطی پر اس وقت سند پائے جانے والے پروفیسر شٹائن باخ (Steinbach) شامل تھے اور اس کے علاوہ یو۔ایس۔اے اور فرانس ایمبیسیز کے پولیٹیکل آفیسرز، حکومت کے مختلف نمائندے، مختلف مذاہب اور چرچز اور کمیونٹیز کے نمائندے تھے۔پریس اور میڈیا کے نمائندے بھی تھے اور ایمنسٹی انٹر نیشنل کے نمائندے بھی تھے۔الیگزینڈر (Alexander) صاحب جو ممبر آف پارلیمنٹ ہیں، کہتے ہیں کہ جس امن اور سلامتی کا آپ