خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 569 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 569

خطبات مسرور جلد 17 569 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 اس کے جوابات دیے اور بے خوف ہو کر اسلام کے نقطہ نظر کی وضاحت کی۔پھر کہتے ہیں خوشی کی بات یہ ہے کہ ان کی ہر وضاحت اور تشریح انسانی معاشرے کو امن، صلح اور محبت کی طرف لے جانے والی ہے۔پھر ایک مہمان خاتون ہیں ہائیک براڈر (Heike Brader) صاحبہ۔کہتی ہیں کہ آپ نے بتایا کہ خدا ساری دنیا کا رب ہے۔رب العالمین ہے اور یہ خدا کا ایسا وسیع تر تصور ہے جو میرے لیے بہت دلچپسی کا باعث تھا اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خدا ایک اور واحد ہوتے ہوئے بھی سب مذاہب اور سارے انسانوں اور قوموں کا خدا ہے اور سب کو بلا امتیاز پالتا ہے۔ہر غور کرنے والے اور عقل مند کو توحید کو مانے بغیر چارہ ہی نہیں ہے اور یہ ان کے لیے ضروری ہے کہ واحد و یگانہ خد اکوما نیں جو سب طاقتوں کا مالک ہے اور ہر احمدی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ یہ توحید کا جو پیغام ہے ہر ایک تک پہنچائیں۔ایک خاتون باؤور (Bauer ) صاحبہ کہتی ہیں کہ میرے لیے ایک بہت بڑے اعزاز کا باعث ہے کہ میں ایک ایسی بابرکت محفل میں شامل ہو سکی۔بعض تحفظات اور غلط فہمیاں جو میرے ذہن میں تھیں وہ امام جماعت احمد یہ نے اپنے واضح موقف اور اسلامی تعلیم کی حقیقی تشریح اور تفصیل سے دور کر دی ہیں۔اب میرے لیے بہت کچھ واضح ہو چکا ہے۔ایک مہمان کہتے ہیں کہ امن قائم کرنے کے لیے سب سے اہم بات جو بیان کی گئی وہ یہ ہے کہ دوسروں کی اقدار کو مد نظر رکھا جانا چاہیے۔مجھے اس بات کا علم تو تھا کہ اسلام میں مختلف فرقے ہوتے ہیں لیکن اس جماعت کا بہر حال نہیں پتا تھا جو اتنی امن پسند ہو۔پھر ایک مہمان مختاری (Muktari) صاحب ہیں جو کہ ویز بادن کی پولیس میں کام کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ آج کا پروگرام یہ واضح کر رہا تھا کہ مسلمان اپنی ایک اور تصویر بھی دکھانا چاہتے ہیں کہ اسلام حقیقت میں ایک امن پسند مذہب ہے۔خلیفہ نے یہ جو ذکر کیا کہ افریقہ میں بھی آپ لوگ مختلف پراجیکٹس کرواتے ہیں یہ مجھے بہت ہی اچھا لگا۔پھر فلڈا (Fulda) میں مسجد بیت الحمید کا افتتاح ہوا۔اس تقریب میں بھی 330 مہمان شامل ہوئے اور وہاں کے لارڈ میئر تو آئے تھے لیکن لارڈ میئر صرف باہر استقبال کر کے چلے گئے تھے۔دوسرے علاقوں کے میئر صاحبان بھی آئے تھے۔کو نسل کے ممبران اور سابقہ ممبر پارلیمنٹ اور مختلف پارٹیوں کے چیئر مین بھی تھے اور راؤنڈ ٹیبل وہاں کی ایک ریلیجس کا نفرنس (religious conference) ہے، ایک کمیٹی ہے راؤنڈ ٹیبل، اس کے چیئر مین بھی آئے ہوئے تھے۔فلڈا جو ہے یہاں عموماً مسلمانوں کے خلاف کافی تحفظات پائے جاتے ہیں بلکہ مخالفت ہے اور یہ عیسائیت کا ایک پرانا گڑھ ہے اور اپنی روایات کو قائم رکھنے والا شہر ہے۔کم از کم چرچ یہ چاہتا ہے کہ روایات کو قائم رکھیں لیکن لوگ تو وہاں بھی عیسائیت سے بہت دور ہٹتے جارہے ہیں۔بہر حال ان کے خوف کی وجہ سے چرچ کے نمائندے تو سارے نہیں آئے اور بعض سیاست دان بھی نہیں آئے۔اسی طرح لارڈ میئر بھی بیٹھے رہے۔انہوں نے یہی کہا کہ میں تقریر نہیں کروں گا، آ کے استقبال کر لوں گا لیکن بہر حال اس خوف سے سٹیج پر نہیں بیٹھے کہ