خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 568 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 568

خطبات مسرور جلد 17 568 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 بارے میں آپ نے جو کہا، تفصیل کے ساتھ جو اسلامی تعلیم پیش کی ہے یہ میرے لیے بالکل نئی اور دلچسپ تھی اور کسی بھی مذہبی شخصیت سے اس حد تک ہمسائے کے حق کی تاکید میں نے پہلی بار سنی ہے۔پھر ایک لاء فرم سے آئے ہوئے وکیل تھے۔کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی سوچ کی وسعت پر تو میں اور میر ادفتر پہلے بھی حیرت زدہ ہوتے تھے لیکن آج ہمسائے کے حقوق جو آپ نے بیان کیے ہیں اور ہمسائے کی تعریف میں جو وسعت بیان کی ہے تو شہر کا شہر ہی اس وسعت میں سما گیا ہے اس سے ہماری حیرت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔اس طرح اہل شہر کے لیے جماعت احمدیہ کی ہمدردی اور خبر گیری کا دائرہ اور وسیع ہو گیا ہے۔پھر ایک مہمان سوزین (Susanne) صاحبہ جو ٹیچر ہیں کہتی ہیں کہ جو بات مجھے اس خطاب میں سب سے اچھی لگی وہ یہ تھی کہ ہم سب انسانوں کا خالق ایک ہی ہے اور ہم سب ایک ہی خدا پر ایمان لاتے ہیں۔یہ بات ہم سب کو یا د ر کھنی چاہیے۔پھر ایک خاتون کونی (Conny) صاحبہ ہیں جن کا تعلق ڈئی گرون (Die Grine) پارٹی سے ہے جو شہر ویز بادن کے پارلیمنٹ میں شعبہ انٹیگریشن (integration) کے لیے کام کرتی ہیں۔کہتی ہیں کہ یہ خطاب نہایت حوصلہ افزا محسوس ہوا۔ایک بات جو میرے لیے بھی نہایت اہم ہے اور مجھے کبھی بھولے گی نہیں وہ یہ تھی کہ تمام احمدیوں کو اپنے ماحول کے لیے مفید وجو د بننا چاہیے۔اس بات پر صرف احمدیوں کو ہی نہیں بلکہ سب کو عمل کرنا چاہیے۔اگر تمام مسلمان فرقے آپ احمدیوں کی طرح اوپن مائنڈڈ (open minded) ہوتے تو ہمارا آپس میں مل جل کر رہنا بہت آسان ہو جاتا۔یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ بے شک ہم مل جل کر تو رہتے ہیں لیکن بعض لوگ بعض دفعہ مداہنت کا اظہار کر دیتے ہیں۔اس لیے اپنی تعلیم کے اندر رہتے ہوئے آپ بات کریں اور انٹیگریشن کے لیے اسی اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی آرام سے تعلیم بتائی جاسکتی ہے۔اس لیے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انٹیگریشن کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام کی تعلیم کو واضح کیا جائے۔بہر حال اب اگلے مہمان کا ذکر کرتا ہوں۔یہ سکول میں استاد ہیں۔کہتے ہیں کہ مجھے یہاں پہلی بار جماعت کا تعارف ہوا اور بڑا اچھا انتظام تھا۔یہ بات مجھے بڑی اہم لگی ہے جو خلیفہ نے بیان کی ہے کہ رواداری پر زور دیا جائے اور دوسرے مذاہب کے لوگوں اور اسی طرح تمام انسانوں کے ساتھ پیار سے پیش آیا جائے۔یہ آج کل کے معاشرے میں بہت ہی کم ہو گیا ہے اور دوسرے مذاہب اس بات کو بھولتے جار ہے ہیں لیکن آپ لوگ اس کو اہمیت دیتے ہیں۔اب میں نے آپ لوگوں کی مسجد میں بھی ضرور جاتا ہے اور میرے ذہن میں جو میرے سارے سوالات پید اہورہے ہیں ان کو حل کروانا ہے۔ایک مقامی ہسپتال کے ڈاکٹر ہیں۔کہتے ہیں کہ مذہبی حلقوں سے اگر ایسی تعلیم ملے جس کا اظہار آج امام جماعت احمدیہ کی تقریر سے ہوا ہے تو معاشرے میں انسانی قدروں کا احترام قائم ہو سکتا ہے۔چرچ کو بھی ایسا نقطہ نظر عام کرنا ہو گا۔ابھی چرچ بہت سے سوالوں سے آنکھیں چراتا ہے۔یہ عیسائی ہیں اور کہتے ہیں کہ ابھی چرچ بہت سے سوالوں سے آنکھیں چراتا ہے جب کہ امام جماعت احمدیہ نے ہر ممکنہ سوال اور اعتراض کو لے کر کئی زاویوں سے